مشرقی کانگو میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایبولا کے مزید 26 مشتبہ مریضوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے وبا کے تیزی سے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام کے مطابق نئی ہلاکتوں کے بعد مشرقی کانگو میں اس وبا سے منسلک اموات کی تعداد 131 ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کانگو میں کالٹن کی کان بیٹھ گئی، 200 سے زائد ہلاک
کانگو کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک ایبولا کے 543 مشتبہ اور 33 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔
دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے وائرس کی نایاب ’بندی بوجیو‘ قسم کے پھیلاؤ کو عالمی صحت کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔
EBOLA OUTBREAK: At least 131 deaths and over 500 suspected cases have been reported in the latest Ebola outbreak in eastern Congo, the Congolese health ministry said Tuesday as the World Health Organization's head expressed concern over the "scale and speed of the epidemic."… pic.twitter.com/2XPFZRehJ6
— NEWSMAX (@NEWSMAX) May 19, 2026
یہ پہلا موقع ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس بلانے سے پہلے ایسی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہو۔
ماہرین کے مطابق اس وبا نے شدید تشویش اس لیے پیدا کی ہے کیونکہ یہ کئی ہفتوں تک بغیر شناخت کے ایسے گنجان آباد علاقوں میں پھیلتی رہی جہاں پہلے ہی مسلح تشدد اور بدامنی موجود ہے۔
یاد رہے کہ 2018 سے 2020 کے دوران مشرقی کانگو میں ایبولا کی ایک اور وبا تقریباً 2 ہزار 300 افراد کی جان لے چکی تھی، جو تاریخ کی دوسری مہلک ترین وبا تھی۔
مزید پڑھیں: ماربرگ وائرس کیا ہے اور یہ کتنا خطرناک ہے؟
کانگو کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر ژاں ژاک موئیمبے کے مطابق لاکھوں آبادی والے شہر بوٹیمبو میں پیر کے روز ایبولا کے پہلے 2 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
ادھر یوگنڈا کے حکام نے ایشاشا-کیسھیرو سرحدی گزرگاہ پر نقل و حرکت محدود کرنا شروع کر دی ہے، تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کو باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب جنوبی علاقوں میں گوما اور بوکاوو شہروں سے روانڈا جانے کی کوشش کرنے والے کانگو کے شہریوں کو بھی سرحد پر روک دیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے ہفتے کے روز ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرحدیں بند نہ کریں کیونکہ اس سے غیر قانونی اور غیر نگرانی شدہ راستوں سے آمد و رفت بڑھ سکتی ہے۔
ایبولا وائرس متاثرہ انسانوں یا جانوروں کے جسمانی رطوبتوں کے براہِ راست رابطے سے پھیلتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کی اوسط شرحِ اموات تقریباً 50 فیصد ہے۔
جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کہا کہ وہ اس وبا کے پھیلاؤ کی رفتار اور شدت پر انتہائی تشویش رکھتے ہیں۔














