پاکستان تحریک انصاف میں احتجاجی سیاست اور تنظیمی حکمتِ عملی کے حوالے سے اختلافات ہمیشہ سے نمایاں رہے ہیں۔ پارٹی کے بعض مرکزی رہنما جہاں مسلسل سیاسی اور قانونی جدوجہد کو ترجیح دے رہے ہیں، وہیں خیبر پختونخوا اور عمران خان کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے کئی رہنما فوری اور بھرپور احتجاجی تحریک کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے عمران خان کی رہائی کے لیے ممبر سازی مہم، کیا پی ٹی آئی پرتشدد مظاہروں کا راستہ اپنانے جارہی ہے؟
پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا گفتگو میں واضح کر چکے ہیں کہ محض ایک روزہ دھرنے، احتجاج یا کسی مقام پر لوگوں کا مجمع اکٹھا کر لینے سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی رہائی ایک طویل سیاسی، آئینی اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں ہی ممکن ہوگی۔ سلمان اکرم راجا نے زور دیا کہ پارٹی کو جذباتی نعروں کے بجائے منظم سیاسی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی نسبتاً محتاط سیاسی رویے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر تصادم سے گریز اور مذاکراتی و سیاسی راستہ اختیار کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی مرکزی قیادت میں ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ بار بار احتجاجی کالز سے کارکنوں میں تھکن پیدا ہو رہی ہے جبکہ ریاستی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

پارٹی کے صوبائی صدر خیبر پختونخوا جنید اکبر خان نے بھی تنظیمی استحکام، کارکنوں کی تیاری اور مرحلہ وار سیاسی حکمتِ عملی پر زور دیا ہے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کی مکمل مخالفت نہیں کرتے تاہم وہ غیر منظم یا جذباتی تحریک کے بجائے مربوط سیاسی لائحہ عمل کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف خیبرپختونخوا کے کارکنان ہی احتجاج کرتے ہیں اور انہی کی گرفتاریاں ہوتی ہیں، لہٰذا پنجاب کے کارکنان کو بھی آگے آنا چاہیے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت اور پارٹی کے سخت گیر حلقے مسلسل احتجاجی سیاست کے حامی ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاج کے حامی ہیں۔ انہوں نے چند دن قبل ترنول کے قریب بڑا احتجاج بھی کیا ہے۔ اس سے قبل وہ عمران خان کی رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ اور ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور متعدد بار اعلان کر چکے ہیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مختلف جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں کہا کہ اگر پارٹی کارکن گھروں میں بیٹھے رہے تو عمران خان کو انصاف نہیں ملے گا۔ ان کے مطابق ’حقیقی آزادی‘ کی تحریک کو دوبارہ متحرک کرنا وقت کی ضرورت ہے اور پارٹی کارکن ہر کال کے لیے تیار رہیں۔
انہوں نے کئی مواقع پر اسلام آباد کی جانب مارچ، ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پر دباؤ بڑھانے کی ہر کوشش کا جواب عوامی طاقت سے دیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کی رہائی تک احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی اور پارٹی کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔

علیمہ خان بھی پارٹی کے اس حلقے میں نمایاں سمجھی جاتی ہیں جو احتجاجی سیاست کو مؤثر ذریعہ قرار دیتا ہے۔ وہ متعدد مواقع پر کارکنوں کو متحرک کرنے، احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور دھرنوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ پارٹی کے بعض حلقوں کے مطابق علیمہ خان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور عوامی تحریک ناگزیر ہے اور کارکنوں کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔
رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، صوبائی کابینہ کے رکن مینا خان آفریدی اور پارٹی رہنما شفیق جان بھی مسلسل احتجاجی تحریک اور عوامی دباؤ بڑھانے کی حمایت کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان جیل میں ہیں، کارکنان اور رہنماؤں کو گھروں میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اس وقت دو مختلف سیاسی بیانیوں کے درمیان کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف وہ قیادت ہے جو قانونی و سیاسی جدوجہد اور تدریجی حکمتِ عملی پر یقین رکھتی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ رہنما ہیں جو فوری عوامی احتجاج، دھرنوں اور مسلسل تحریک کو ہی عمران خان کی رہائی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔













