آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات: حکومت نے کن شرائط پر آمادگی ظاہر کی؟

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے متعلق مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ مذاکرات کے دوران مختلف معاشی امور، اصلاحاتی اقدامات اور بجٹ حکمتِ عملی پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ آئی ایم ایف نے بات چیت آئندہ دنوں میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات کا آغاز

آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا نے دورہ پاکستان کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ وفد نے پاکستانی حکام کے ساتھ موجودہ معاشی صورتحال اور مجوزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر جامع گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجویز پیش کی ہے جبکہ اس کے بدلے اضافی محصولات اکٹھے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا ہے کہ وہ قلیل اور درمیانی مدت میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ میں کمی لانا چاہتی ہے۔

حکومتی تجاویز کے مطابق سالانہ 10 لاکھ روپے تک آمدن کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے، 20 لاکھ روپے تک آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح 35 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے موجودہ 10 فیصد اضافی سرچارج ختم کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کے دوران کارپوریٹ انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس میں آئندہ 5 سال کے دوران مرحلہ وار کمی کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان پر عائد ایڈوانس ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اندازوں میں ان ٹیکس ریلیف اقدامات کے باعث قومی محصولات میں تقریباً 400 ارب سے 950 ارب روپے تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے ازالے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کو اضافی ریونیو اقدامات کے ذریعے توازن برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2 فیصد پرائمری بجٹ سرپلس کا ہدف برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے تاہم حکومت اس ہدف میں نرمی کی خواہاں ہے تاکہ مجوزہ ٹیکس ریلیف اقدامات کے اثرات کو متوازن کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحات میں پیشرفت کا اعتراف

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی میں 18 فیصد اضافے کی سفارش بھی کی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی 100 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف دینے اور وفاق کو تقریباً 2 ہزار ارب روپے سرپلس منتقل کرنے کا مطالبہ بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے آئندہ مالی سال کا ابتدائی ٹیکس وصولی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ دسمبر 2026 تک ششماہی ہدف 7 ہزار 22 ارب روپے مقرر کیے جانے کی تجویز ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اضافی 215 ارب روپے کے ریونیو اقدامات کرے گی۔ ان اقدامات میں فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جیز) پر سیلز ٹیکس وصولی کے نظام میں تبدیلی بھی شامل ہے جس کے ذریعے 50 ارب روپے اضافی آمدن حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مجوزہ تبدیلی کے تحت بعض مصنوعات پر سیلز ٹیکس ویلیو ایڈیشن کے ہر مرحلے کے بجائے براہ راست مارکیٹ میں درج قیمت پر وصول کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ سیلز ٹیکس کی خودکار نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تخمینے کے مطابق اس اقدام سے آئندہ مالی سال میں تقریباً 46 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آئندہ بجٹ میں کون سے نئے ٹیکس عائد ہوسکتے ہیں؟

ذرائع کے مطابق چینی، سیمنٹ، تمباکو، مشروبات اور کھاد کے شعبوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سخت کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے کیونکہ ان شعبوں میں تقریباً 160 ارب روپے کے سیلز ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایف بی آر ان شعبوں سے مزید 48 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے جبکہ ٹیکس آڈٹ کے ذریعے 95 ارب روپے اضافی آمدن کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں متعدد بنیادی اشیا اب بھی ٹیکس استثنیٰ یا رعایتی ٹیکس سے مستفید ہو رہی ہیں جبکہ صوبائی سطح پر الگ الگ سیلز ٹیکس نظام کاروباری اور انتظامی پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ فنڈ نے سیلز ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ، پروڈکشن مانیٹرنگ اور ریٹیلرز کی رجسٹریشن بڑھانے کی سفارش بھی کی ہے۔

مزید پڑھیں: آئندہ بجٹ میں آٹو سیکٹر کو ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان

ذرائع کے مطابق حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی سہ ماہی امدادی رقم 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے پر بھی اصولی رضامندی ظاہر کی ہے تاہم اس کے ساتھ بجلی اور گیس کے نرخوں میں سال میں دو مرتبہ اضافے کی شرط برقرار رکھی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے جس کے تحت دفاعی اخراجات 2 ہزار 564 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 2 ہزار 665 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 986 ارب روپے مختص کیے جانے کی توقع ہے جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 2.1 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.5 ٹریلین روپے تک جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے تاہم چند اہم اور حساس امور پر مذاکرات بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی: 200 یونٹ بجلی سبسڈی ختم، نیا نظام 2027 سے نافذ

ذآئی ایم ایف وفد کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔ مذاکرات میں بجلی و گیس کے شعبے کے گردشی قرضے، غیر ملکی کمپنیوں کو ادائیگیاں، چینی پالیسی اور مجموعی مالیاتی حکمت عملی بھی زیر غور آئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp