بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلسل اور منظم پالیسیوں پر عملدرآمد نے اقتصادی استحکام برقرار رکھنے اور مالیاتی حالات بہتر بنانے میں مدد دی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات مجموعی معاشی منظرنامے کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو پائیدار طویل مدتی ترقی اور معاشی لچک حاصل کرنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور ساختی اصلاحات کو تیز کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعہ کے روز اپنی رپورٹ جاری کی، جس میں توسیعی فنڈ سہولت یعنی ای ایف ایف کے تحت کیے گئے پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی یعنی آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات کا آغاز
ایک روز قبل اسٹیٹ بینک نے تصدیق کی تھی کہ اسے 1.32 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جن میں 1.1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور تقریباً 22 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے اپنے اصلاحاتی پروگرام میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت میں استحکام اور اعتماد کی بحالی ممکن ہوئی ہے، اگرچہ عالمی ماحول غیر یقینی اور چیلنجنگ ہے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے تناظر میں۔
فنڈ نے کہا کہ مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی ہے اور مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل ہونے کی توقع ہے۔
IMF Country Report-Pakistan: Selected Economic Indicators#Economy #IMF #Equities #Pakistan pic.twitter.com/G2gH5DIo2k
— Arif Habib Limited (@ArifHabibLtd) May 15, 2026
تاہم عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق دونوں پروگرامز کے تحت اب تک مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ یہ پروگرام معاشی استحکام، اعتماد کی بحالی اور بیرونی مالی ذخائر بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال کے پہلے نصف میں پاکستان کی معاشی رفتار میں بہتری آئی، مہنگائی قابو میں رہی، کرنٹ اکاؤنٹ نسبتاً متوازن رہا۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ، آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول
جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر دسمبر کے آخر تک تقریباً 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے معاشی منظرنامے میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
فنڈ نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط معاشی پالیسیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اصلاحات کی رفتار تیز کرنا ہوگی تاکہ ممکنہ جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف نے مالیاتی نظم و ضبط جاری رکھنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے، اور سرکاری مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن، وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ
اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مثبت قرار دیا گیا۔
ادارے نے کہا کہ بیرونی کھاتوں میں لچک کے لیے شرحِ تبادلہ میں لچک برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ زرمبادلہ مارکیٹ کو مزید مضبوط بنانے اور ذخائر بڑھانے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
ساختی اصلاحات کو پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کی اصلاح، بہتر گورننس اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی ایم ایف کے نائب منیجنگ ڈائریکٹر نِگل کلارک نے کہا کہ پاکستان کی پروگرام پر عملدرآمد کارکردگی مضبوط رہی ہے، جس نے مشکل عالمی حالات کے باوجود معاشی استحکام میں مدد دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث افراطِ زر اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، تاہم مجموعی اثر محدود رہنے کی توقع ہے، اگرچہ خطرات اب بھی زیادہ ہیں۔














