آئندہ بجٹ میں آٹو سیکٹر کو ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آٹو انڈسٹری کو بڑے پیمانے پر ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں چھوٹی گاڑیوں، ہائبرڈ اور الیکٹرک وہیکلز کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ سی کے ڈی کٹس پر بھی ڈیوٹی کم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بڑی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی آدھی اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھ گیا، ’عام آدمی کیا کرے‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینے اور گاڑیوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے نان لوکلائزڈ پارٹس پر 5 فیصد اور لوکلائزڈ پارٹس پر 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بن گئیں تو مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں کا بڑا حصہ مختلف ٹیکسز اور درآمدی ڈیوٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ڈیوٹی کم ہونے سے صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق 660 سی سی سے 1000 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں 2 سے 5 لاکھ روپے تک سستی ہو سکتی ہیں، جبکہ الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت الیکٹرک وہیکل پالیسی کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ نئی تجاویز کے تحت صرف بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کے بجائے پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور فیول سیل گاڑیوں کو بھی ’نیو انرجی وہیکلز‘ کی کیٹیگری میں شامل کیا جائے گا تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی مینوفیکچررز کو محدود تعداد میں رعایتی ڈیوٹی پر الیکٹرک گاڑیاں، بائیکس اور رکشے اسمبل کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ہر کمپنی کو 100 گاڑیوں تک خصوصی رعایت دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ یہ سہولت 30 جون 2027 تک برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:5 سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی ختم ہونے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر صرف ایک فیصد جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ اور دیگر ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کو بعض ڈیوٹی شرائط سے استثنیٰ دینے کی بھی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت مقامی سطح پر اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کو درآمدی مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ترجیحی تحفظ دینے پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ پیٹرول سے چلنے والی درآمدی گاڑیوں پر مرحلہ وار ٹیرف کمی کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت یہ تمام تجاویز بجٹ میں شامل کر لیتی ہے اور آٹو کمپنیاں ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرتی ہیں تو کئی برس بعد پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم اصل صورتحال کا انحصار بجٹ کے حتمی اعلانات اور بعد ازاں آٹو کمپنیوں کی قیمتوں کے تعین پر ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp