پاکستان نے انسانی حقوق کے کارکن سعد ایدھی کی رہائی کی تصدیق کی ہے، جنہیں اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کے دوران دیگر غیرملکی کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مرحوم سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی دیگر کارکنوں کے ہمراہ بحفاظت استنبول پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت حکام کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
It gives me a great pleasure to announce that as a result of our concerted efforts, Mr. Saad Edhi, who was aboard Global Sumud Flotilla, has been released after being illegally detained by Israeli occupation forces. He along with other detained humanitarian workers have safely…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 21, 2026
اسحاق ڈار نے سعد ایدھی کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے اور ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے پر ترک حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک کو ‘شدید قابل مذمت اور مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تمام ارکان رہا کردیے
ترکیہ کے شہر استنبول پہنچنے پر پاکستانی رضاکار سعد ایدھی نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ جانے والے امدادی مشن کے دوران اسرائیلی فورسز نے انہیں اور دیگر کارکنوں کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روک کر 4 روز تک تشدد کا نشانہ بنایا۔
اپنے ویڈیو بیان میں سعد ایدھی نے کہا کہ وہ اس وقت استنبول میں موجود ہیں جہاں پاکستانی قونصل خانے کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیر کی صبح اسرائیلی فورسز نے غزہ سے تقریباً 270 ناٹیکل میل دور بین الاقوامی پانیوں میں ان کے جہاز کو روکا اور انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا۔
اسرائیل سے رہائی پانے والے سعد ایدھی کی پہلی ویڈیو سامنے آگئی pic.twitter.com/2ceAkesGZj
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) May 21, 2026
سعد ایدھی کے مطابق انہیں اور دیگر افراد کو 3 روز تک ایک جیل نما بحری جہاز میں رکھا گیا جبکہ چوتھے روز اسرائیل منتقل کیا گیا جہاں سے بے دخلی کا عمل شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ دورانِ حراست انہیں 3 دن تک سونے نہیں دیا گیا، رات کے وقت فرش پر پانی چھوڑ دیا جاتا تھا اور روزانہ کئی مرتبہ اسٹن گنز کا استعمال کیا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر 180 افراد کو ایک ہی جہاز میں رکھا گیا تھا اور ہر شخص کو صرف 500 ملی لیٹر پانی روزانہ فراہم کیا جاتا تھا۔
مزید پڑھیں: بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے 7 جہاز تحویل میں
سعد ایدھی کے مطابق انہیں کئی کئی گھنٹے گھٹنوں کے بل بٹھایا جاتا اور سر جھکا کر مارا پیٹا جاتا تھا جس کے باعث ان کے گھٹنوں اور ہاتھوں پر اب بھی نشانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہتھکڑیاں انتہائی سخت ہونے کے باعث ان کا ہاتھ اب تک سن ہے۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ وہ آئندہ 2 روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے، اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے ‘فری فلسطین، فری غزہ’ کے نعرے بھی لگائے۔













