فرانس کا بدترین فضائی حادثہ، عدالت نے 17 سال بعد ایئر فرانس اور ایئربس کو قصوروار ٹھہر ادیا

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کی ایک کورٹ آف اپیل نے 2009 میں پیش آنے والے بدترین فضائی حادثے میں ایئر فرانس اور ایئربس کو غیر ارادی قتلِ عام کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

 یاد رہے کہ ایئر فرانس کی فلائٹ اے ایف 447 کے حادثے میں 228 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پیرس کورٹ آف اپیل کے فیصلے نے نچلی عدالت کے 2023 کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں دونوں کمپنیوں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپیل عدالت نے قرار دیا کہ پرواز اے ایف 447 کے حادثے کی ‘مکمل اور واحد ذمہ داری’ ایئر فرانس اور ایئربس پر عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے لاگارڈیا ہوائی اڈے پر طیارہ حادثہ: 2 ہلاک، درجنوں زخمی

عدالت نے دونوں کمپنیوں پر 2 لاکھ 25 ہزار یورو جرمانہ بھی عائد کیا، جو کارپوریٹ قتلِ عام کے جرم میں زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔

اگرچہ جرمانے کی رقم علامتی حیثیت رکھتی ہے، تاہم اس فیصلے کو دونوں کمپنیوں کے لیے شدید ساکھ نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

یکم جون 2009 کو ایئربس اے 330 پر مشتمل ایئر فرانس کی پرواز اے ایف 447 ریو ڈی جنیرو سے پیرس جا رہی تھی۔

بحرِ اوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران پائلٹس طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھے، جس کے نتیجے میں جہاز سمندر میں جا گرا۔

حادثے میں سوار تمام 216 مسافر اور عملے کے 12 ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نچلی عدالت نے ان عوامل کو نظر انداز کیا جنہوں نے پائلٹس کے اقدامات اور حادثے کے درمیان ‘سبب کی زنجیر’ پیدا کی۔

جج سلوی میڈک کے مطابق یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس سے بچا جا سکتا تھا اگر متعلقہ کمپنیاں خرابی کی سنگینی کو بروقت سمجھ لیتیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران متاثرہ خاندانوں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کمپنیاں ‘پیٹو ٹیوبز’ میں خرابی سے آگاہ تھیں۔

مزید پڑھیں: کولمبیا میں طیارہ حادثہ، قانون ساز سمیت 15 افراد ہلاک

یہ سینسر طیارے کی رفتار ناپنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم پائلٹس کو اس نوعیت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مناسب تربیت نہیں دی گئی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بحرِ اوقیانوس کے اوپر طوفان کے دوران برفانی ذرات نے سینسرز کو جام کر دیا، جس کے باعث کاک پٹ میں الارم بجنے لگے اور آٹو پائلٹ سسٹم بند ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق آلات کی خرابی کے بعد پائلٹس نے طیارے کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی جس سے جہاز اسٹال ہوگیا اور بالآخر سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

عدالت نے ایئربس کو اس خرابی کی سنگینی کم سمجھنے اور فضائی کمپنیوں کے عملے کو مکمل معلومات فراہم نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

مزید پڑھیں: ترکیہ میں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف محمد الحداد ساتھیوں سمیت جاں بحق

دوسری جانب ایئر فرانس کو پائلٹس کی ناکافی تربیت اور عملے کو مناسب آگاہی نہ دینے پر قصوروار ٹھہرایا گیا۔

تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ حادثے سے قبل کے ساڑھے 4 منٹ کے دوران پائلٹ کی ممکنہ غلطیوں کے باوجود عملہ انتہائی پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھا۔

عدالت کے مطابق پائلٹس نے اس ہولناک صورتحال سے نکلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور ان پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔

دونوں کمپنیوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف مزید اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے 17 سال بعد انصاف پر مبنی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp