نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

جمعہ 22 مئی 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تین دن پہلے ایک دوست نے واٹس ایپ پر ایک ویڈیو بھیجی اور لکھا ’دیکھو، ناروے میں بھی یہ ہو رہا ہے۔‘

ویڈیو میں ایک نوجوان خاتون کو صف میں کھڑے ہو کر بلند آواز سے سوال پوچھتے دیکھا جا سکتا تھا، جبکہ سامنے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ناروے کے وزیراعظم جوناس گار خاموشی سے چلتے ہوئے باہر نکلتے نظر آ رہے تھے۔

پتہ چلا کہ وہ ناروے کی ایک خاتون صحافی ہیلی لینگ تھیں۔ انہوں نے 18 مئی کو اوسلو میں دونوں وزرائے اعظم کی مشترکہ پریس بریفنگ کے اختتام پر، جب مودی جی چلنے لگے، اونچی آواز میں پوچھا:
’وزیراعظم مودی! آپ دنیا کے آزاد ترین پریس سے سوال کیوں نہیں لیتے؟‘
جواب نہیں ملا۔ مودی جی نکل گئے۔

ہیلی لینگ نے بعد میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی اور لکھا:
’ناروے پریس آزادی کے عالمی اشاریے میں پہلے نمبر پر ہے۔ بھارت 157 ویں نمبر پر ہے، فلسطین اور کیوبا کے قریب۔ جن حکومتوں کے ساتھ ہم تعاون کرتے ہیں، ان سے سوال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘

یہ ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر بھارت میں ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ بجائے اس کے کہ وزیراعظم مودی کے رویے پر تنقید کی جاتی اور اس مغربی نوجوان صحافی کو سراہا جاتا، ایک طوفان برپا ہوگیا۔ یوں لگا جیسے ایک چھوٹے ملک ناروے کے غیر معروف اخبار کی صحافی کا ایک جملہ نام نہاد ’بھارت مہان‘ کے حواس اڑا گیا ہو۔

خاتون صحافی کے سوال میں آخر مسئلہ کیا تھا؟

سچ پوچھیے تو یہ ایک معمولی سی بات تھی۔ ایک صحافی نے حکمران سے سوال مانگا۔ یہ تو صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر ہوا کیا؟ جواب دینے کے بجائے بی جے پی کے شدت پسند حلقے پوری قوت سے نارویجین صحافی پر حملہ آور ہوگئے۔

بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے فوراً ہیلی لینگ کو ’ایجنٹ‘ قرار دے دیا۔ دائیں بازو کی ویب سائٹ ’اُپ انڈیا‘ نے مضمون لکھا کہ آیا یہ صحافت تھی یا مودی کے دورے کے دوران کیا گیا ’منصوبہ بند ہندوستان مخالف تماشا‘۔ کسی نے نارویجین صحافی کے سوشل میڈیا فالوورز گنے، کسی نے ان کا اخبار چھوٹا بتایا اور کسی نے انہیں مغربی بزنس مین جارج سوروس سے جوڑ دیا۔

پھر وہ بھی ہوا جس پر شرم آنی چاہیے۔ بھارت کے ایک سینئر صحافی اور پرو بی جے پی لکھاری جگدیش اُپاسنے، جو ’انڈیا ٹوڈے‘ کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر اور ایک صحافتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں، انہوں نے فیس بک پر ہیلی لینگ کی نجی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہیں ’نام نہاد صحافی‘ کہا۔

ایک صحافی نے صرف ایک سوال پوچھا تھا، مگر جواب دینے کے بجائے ان کی ڈریسنگ کو نشانہ بنایا گیا۔ بھئی، وہ مغربی سماج کی لڑکی ہے، کوئی انڈین تو نہیں کہ اس سے ساڑھی پہننے کا مطالبہ کیا جائے۔ ویسے جگدیش اُپاسنے کو چاہیے کہ ملائکہ اروڑا، راکھی ساونت، کنگنا شرما اور سنی لیونی جیسی بالی وڈ سیلیبریٹیز کے مختصر لباس بھی ملاحظہ فرما لیں۔

نیوز چینل ’آج تک‘ کی انجنا اوم کشیپ نے پروگرام کا عنوان رکھا:
’ناروے میں سوال کے پیچھے سازش؟‘

سرکاری چینل ’ڈی ڈی نیوز‘ کے سدھیر چودھری نے کہا کہ ہیلی لینگ ’صحافی کم اور ایکٹوسٹ زیادہ‘ لگتی ہیں۔ دونوں نے تقریباً ایک ہی اسکرپٹ دہرایا، جیسے انہیں ایک ہی ہدایت دی گئی ہو۔

افسوس اس بات پر ہے کہ یہ ٹرول کرنے والے محض گمنام سوشل میڈیا صارف نہیں تھے، بلکہ انہیں بڑے رہنماؤں کی سرپرستی حاصل تھی اور ان کی سوچ کئی منتخب نمائندوں کی سوچ سے ہم آہنگ تھی۔ یہی اصل خطرہ ہے اور یہی اصل مسئلہ بھی۔

معروف بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دا وائر‘ نے یہ رپورٹ شائع کی۔ اسے پڑھتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ اگر سوال پوچھنا جرم نہیں تو اس پر اتنی ہائے ہائے کیوں؟ ہم پاکستانیوں کا بھی آزادیٔ صحافت کے حوالے سے ریکارڈ بہت اچھا نہیں، مگر ایک بات ضرور ہے کہ ہم جمہوریت کے چیمپئن بننے کا دعویٰ بھی نہیں کرتے، جبکہ انڈین خود کو جمہوریت کا بانی اور نجانے کیا کیا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

12 سال میں ایک پریس کانفرنس بھی نہیں

اس قلم مزدور کے علم میں جب یہ بات آئی تو حیرت ہوئی۔ کئی جگہوں سے تصدیق کرنے کے بعد ہی یہ لکھ رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی مئی 2014 سے بھارت کے وزیراعظم ہیں، مگر 12 برس گزر جانے کے باوجود انہوں نے ایک بھی مکمل پریس کانفرنس نہیں کی، جس میں صحافی آزادانہ سوال پوچھ سکیں۔ یہ ایک حیران کن اور ناقابل یقین حقیقت ہے۔ مودی جی واحد بھارتی وزیراعظم ہیں جن کے نام یہ شرمناک ریکارڈ ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ بھی سن لیجیے۔ 2019 میں انتخابات سے 5 دن پہلے ایک بار ایسا موقع آیا۔ صحافیوں کو بلایا گیا، وہ بھاگے بھاگے پہنچے کہ شاید آج مودی سے سوال پوچھنے کا موقع مل جائے، مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ آج بھی مودی نے ہمت نہیں کی۔ صحافی سوال پوچھنے لگے تو انہوں نے امیت شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
’پارٹی صدر ہی سب کچھ ہے۔‘

یوں وہ پریس کانفرنس میں ایک بے جان کھلونے کی طرح بیٹھے رہے اور باقی تمام سوالات امیت شاہ نے سنبھالے۔ کیا اسے پریس کانفرنس کہا جا سکتا ہے؟

2023 میں جب جی 20 سربراہی اجلاس دہلی میں ہوا اور امریکی صدر بائیڈن مودی کے گھر آئے تو امریکی صحافیوں کو معمول کا مختصر سوال و جواب کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ یہی بھارتی میزبانی کا انداز تھا۔

ویسے سال میں کبھی کبھار مودی جی کا کوئی انٹرویو نشر ہوتا ہے، مگر کیسے؟ اس طرح کہ اپنے انتہائی قابل اعتماد صحافیوں کو بلا کر گفتگو کی جاتی ہے، سوالات پہلے سے معلوم ہوتے ہیں۔ ان نرم نرم سوالات کے جواب دیتے ہوئے بھی کئی ری ٹیک ہوتے ہیں۔ اسٹوڈیو میں موجود صحافیوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اگر یہ بات یا بار بار جواب ایڈٹ کرانے کی تفصیل باہر نکلی تو نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا بلکہ آئندہ کہیں اور ملازمت بھی نہیں ملے گی۔

یوں ان صحافیوں کو انٹرویو دیا جاتا ہے جو مودی جی سے پوچھتے ہیں:
’سر! آپ اتنی محنت کیسے کرتے ہیں؟‘

اب اسے انٹرویو کہا جائے یا چاپلوسی؟

ایک بار اس حوالے سے ان سے خود سوال کیا گیا تو مودی جی نے فرمایا کہ انہوں نے ’ایک نئی ثقافت‘ قائم کی ہے۔ واہ، کیا ثقافت ہے! سوال پوچھنا ممنوع اور تعریف لازمی۔

مودی جی کے مداحوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عوام سے براہِ راست رابطہ قائم کر لیا ہے، اس لیے اب میڈیا کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ بچگانہ اور احمقانہ عذر ہے۔ کیا عوام کسی سیاسی ریلی میں مائیک لے کر سوال پوچھ سکتے ہیں؟ کیا وہ مودی جی سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ مغربی بنگال میں اس شدت پسند وزیراعلیٰ کو کیوں بنایا گیا جو انتخابی جلسوں میں اعلانیہ کہتا رہا کہ ہم بنگال کو مسلمانوں کا غزہ بنا دیں گے؟ ایسے سوال تو صرف صحافی ہی پوچھ سکتے ہیں۔ ایک عام آدمی کو تو کبھی ایسا موقع ہی نہیں ملتا۔

نارویجین صحافی ہیلی لینگ کو کیا مشکلات اٹھانا پڑیں؟

جب ہیلی لینگ کی ویڈیو وائرل ہوئی تو بہت سے بی جے پی سپورٹرز نے منظم انداز میں ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس کو رپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ میٹا کا نظام خودکار انداز میں کام کرتا ہے، لہٰذا ہزاروں شکایات آنے پر ان کے اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے۔

ہیلی لینگ نے لکھا:
’یہ صحافتی آزادی کے لیے معمولی قیمت ہے، مگر میرے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔‘

افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارتی سوشل میڈیا سائٹس پر ہیلی لینگ کا فون نمبر اور گھر کا پتہ بھی شیئر کیا گیا۔ انہیں ’غیر ملکی جاسوس‘، ’پاکستانی ایجنٹ‘ اور حتیٰ کہ ’چین کی بھیجی ہوئی خاتون‘ قرار دیا گیا۔ ان تمام الزامات کے بعد آخرکار ہیلی لینگ کو خود وضاحت دینا پڑی کہ:
’میں کسی غیر ملکی حکومت کی جاسوس نہیں ہوں۔ میں صرف ایک صحافی ہوں۔‘

سوچیے، اگر ان کی فیملی میں کوئی پاکستانی ہوتا یا وہ مسلمان ہوتیں تو پھر کیا ہوتا؟ ممکن ہے بھارت میں ہندو مسلم فسادات ہی شروع ہوجاتے۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا

اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ 2023 میں ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی صحافی سبرینا صدیقی نے واشنگٹن میں مودی سے اقلیتوں اور آزادیٔ اظہار کے بارے میں سوال پوچھا تھا۔ مودی نے کہا کہ وہ سوال سن کر ’حیران‘ ہیں۔ اس کے بعد سبرینا صدیقی کو اتنی شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا کہ امریکی وائٹ ہاؤس کو ان کے حق میں بیان جاری کرنا پڑا۔

ہیلی لینگ نے اس بارے میں بہت سادہ اور دوٹوک بات کہی:
’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔ ہم جواب تلاش کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص، خاص طور پر اقتدار میں بیٹھا شخص، میرے سوال کا جواب نہیں دیتا تو میں اسے روک کر زیادہ واضح جواب لینے کی کوشش کروں گی۔ مجھے جواب چاہیے، صرف طے شدہ بیانات نہیں۔‘

بھارتی صحافت کا آئینہ

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی سال 2026 کی فہرست میں بھارت 157ویں نمبر پر ہے، جبکہ ناروے پہلے نمبر پر ہے۔ فلسطین، جہاں گزشتہ 2 برسوں سے جنگ جاری ہے، 156 ویں نمبر پر ہے، یعنی بھارت سے ایک درجہ اوپر۔ پاکستان 153 ویں نمبر پر ہے۔ ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ کا یہ حال ہے۔

بھارتی حکومت نے ’سہیوگ‘ نامی ایک سرکاری نظام قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے میٹا، گوگل، واٹس ایپ اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز آئی ٹی قوانین کے تحت مواد ہٹانے کی براہِ راست درخواستیں وصول کرتے ہیں۔ مارچ 2026 میں درجنوں آزاد بھارتی صحافیوں اور اپوزیشن کے سوشل میڈیا صفحات حکومتی احکامات پر بند کیے گئے۔ فیکٹ چیکر محمد زبیر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارتی حکومت کی درخواست پر بند کیے گئے۔ یہی وہ ملک ہے جسے مودی جی ’وشو گرو‘ بنانا چاہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے ملک ناروے کے اخبار کی صحافی کا ایک جملہ ایک اعشاریہ 4 ارب آبادی کی حکومت کو کیوں ہلا گیا؟ جواب مشکل نہیں۔ جو اپنے اندر سچائی پاتا ہے، وہ سوالوں سے نہیں ڈرتا۔ جو جانتا ہے کہ اس کے پاس جواب موجود ہے، وہ سوال پوچھنے دیتا ہے۔

جو شخص 12 سال میں ایک بھی آزاد پریس کانفرنس نہ کر سکا ہو، جو دوستانہ انٹرویوز کی چھتری تلے رہتا آیا ہو، وہ دراصل سوالوں سے نہیں بلکہ اپنے جوابوں سے ڈرتا ہے۔ راہول گاندھی نے درست کہا کہ اگر مودی کے پاس جواب دینے کو کچھ ہوتا تو وہ سوال ضرور لیتے۔

یہ ہے انڈیا کی نام نہاد ’مہان جمہوریت‘ اور یہ ہیں اس کے نام نہاد ’مہان وزیراعظم‘، جو 12 برسوں میں ایک بھی پریس کانفرنس نہ کر سکے۔ جو صحافیوں کے سوالات سے یوں خوفزدہ ہیں جیسے وہ تیر ہوں جو ان کی سکڑی ہوئی چھاتی میں پیوست ہوجائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp