معروف امریکی مزاحیہ میزبان اسٹیفن کولبرٹ کے مشہور پروگرام ‘دی لیٹ شو’ کی آخری قسط میں مایہ ناز گلوکار پال مکارٹنی سمیت کئی نامور شخصیات نے شرکت کی، جبکہ پروگرام کا اختتام جذباتی مناظر کے ساتھ ہوا۔
سی بی ایس کی جانب سے پروگرام بند کیے جانے کے بعد کولبرٹ نے اپنے شو کو الوداع کہا، مبصرین کے مطابق شو کی بندش ایسے وقت میں ہوئی جب سی بی ایس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
کولبرٹ، جو ایک مذہبی کیتھولک بھی ہیں، طویل عرصے سے پوپ کو اپنے پروگرام میں مدعو کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے روایتی عشائیے میں اس بار کامیڈین کی جگہ مینٹلسٹ اوز پرلمن کا جادو چلے گا
آخری شو میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ پوپ آج ان کے مہمان تھے مگر انہوں نے پروگرام منسوخ کر دیا اور اس کا سبب ہاٹ ڈاگ پر اختلاف کو قرار دیا۔
سن 2015 سے ‘دی لیٹ شو’ کی میزبانی کرنے والے کولبرٹ کا پروگرام اس وقت تنازع کا شکار ہوا جب انہوں نے سی بی ایس کی جانب سے کملا ہیرس کے انٹرویو کی مبینہ ‘گمراہ کن ایڈیٹنگ’ پر
ٹرمپ کے ساتھ 16 ملین ڈالر کے تصفیے کو ‘کھلی رشوت’ قرار دیا۔
سی بی ایس نے مؤقف اختیار کیا کہ پروگرام بند کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر مالی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا، تاہم ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کمپنی کی مالک ادارہ
🚨 IT’S OFFICIAL: The Late Show with Stephen Colbert has officially come to an end, with its final episode airing last night.
Meanwhile, Donald Trump reacted in his usual style, celebrating the show’s end and taking shots at Stephen Colbert. pic.twitter.com/8Q8lxgfBLG
— Global Frontline News (@OmeyLad23) May 22, 2026
پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس میڈیا کے ساتھ 8.4 ارب ڈالر کے انضمام کے لیے حکومتی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
آخری پروگرام میں پال مکارٹنی نے بیٹلز کا مشہور گانا ‘ہیلو گڈبائی’ پیش کیا، جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔
یہ شو نیویارک کے تاریخی ایڈ سلیوان تھیٹر میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں بیٹلز نے 1964 میں امریکا میں اپنی پہلی پرفارمنس دی تھی۔
مزید پڑھیں: سی بی ایس کی ’کٹ اینڈ پیسٹ‘ پالیسی پر صدر ٹرمپ کی نئی چوٹ
‘پال میک کارٹنی نے حاضرین سے خطاب میں کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ امریکا آزادی اور عظیم جمہوریت کی سرزمین ہے۔ ‘امید ہے اب بھی ہے۔
پروگرام میں اداکار رائن رینلڈز، برائن کرینسٹن، پال رڈ، اور ٹم میڈوز نے بھی مختصر شرکت کی۔
‘ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے پروگرام کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ کولبرٹ آخرکار سی بی ایس سے فارغ ہو گیا۔ ‘حیرت ہے کہ وہ اتنا عرصہ کیسے چلتا رہا۔
دوسری جانب دائیں بازو کے ٹی وی میزبان گریگ گٹفیلڈ نے کولبرٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ‘محفوظ مزاح’ تک محدود رہے۔
کولبرٹ نے اپنے کیریئر کا آغاز ‘دی ڈیلی شو’ میں ایک طنزیہ کردار سے کیا تھا، بعد ازاں انہوں نے اپنا الگ پروگرام ‘دی کولبرٹ رپورٹ’ شروع کیا اور پھر امریکی لیٹ نائٹ ٹی وی کے بڑے ناموں میں شامل ہو گئے۔
اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کولبرٹ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آج کے بعد کیا کروں گا۔ ‘جواب ہے، منشیات۔’
تاہم انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ مستقبل میں ‘دی لارڈ آف دا رنگ’ کی ایک نئی فلم کے لیے بطور لکھاری کام کریں گے۔












