آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر اہم پیشرفت، آئینی و قانونی مؤقف سامنے آگیا

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق جاری بحث میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اس معاملے پر تشکیل دی گئی ہائی پاورڈ کمیٹی کو تفصیلی آئینی و قانونی دستاویزات موصول ہو گئی ہیں۔ جموں اینڈ کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مہاجر نمائندگی کا خاتمہ نہ صرف آئینی و تاریخی ناانصافی ہوگا بلکہ یہ مسئلہ کشمیر سے متعلق موجودہ قانونی اور سفارتی مؤقف کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر الیکشن: مہاجرین کی 12 نشستوں سمیت 45 انتخابی حلقوں کی حتمی فہرست جاری

چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کو ’جموں اینڈ کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس‘ کی جانب سے ارسال کردہ دستاویزات میں 12 مہاجر نشستوں سے متعلق تفصیلی سفارشات شامل کی گئی ہیں، جو ہائی پاورڈ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں زیر غور آئیں گی۔ کونسل نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سوالات کا بھی پیرا وائز جواب دیتے ہوئے مہاجر نشستوں کے خاتمے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

کونسل کے مطابق مہاجر نشستیں مسئلہ کشمیر کے غیر حل شدہ ہونے کا آئینی اظہار ہیں اور آزاد کشمیر صرف موجودہ جغرافیائی حدود نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کا عبوری نمائندہ ڈھانچہ ہے۔ مؤقف میں کہا گیا ہے کہ مہاجر حلقے ریاست جموں و کشمیر کی وحدت اور حق خودارادیت کی علامت ہیں، جبکہ مہاجر ریاستی باشندگان کو ایک محفوظ آئینی طبقہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ مہاجر نمائندگی کا خاتمہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہوگا اور یو این سی آئی پی فریم ورک سمیت بین الاقوامی حوالہ جات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ دستاویز میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستانی شہریت کے باوجود ریاستی باشندگی ختم نہیں ہوتی، جبکہ اس نمائندگی کے خاتمے سے سیز فائر لائن کے دونوں اطراف بداعتمادی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

جموں اینڈ کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے مزید کہا ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد مہاجر نشستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، اور محض عددی اکثریت کی بنیاد پر ان نشستوں کو ختم کرنا سیاسی بے دخلی کے مترادف ہوگا۔ تنظیم نے انتخابی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے مہاجر نمائندگی کے خاتمے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

دستاویزات میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مہاجر نمائندوں کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور انہیں باقاعدہ حق شنوائی فراہم کی جائے۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی کی جانب سے ہائی پاورڈ کمیٹی کو تفصیلی تحریری جواب جمع کرایا گیا ہے، جبکہ چیف سیکرٹری آفس سے دستاویزات متعلقہ اراکین تک بروقت پہنچانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

دوسری جانب ﴿جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی﴾ کی تجاویز پر بھی کونسل نے تفصیلی قانونی و آئینی ردعمل جمع کرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق دستاویزات کمیٹی اراکین کو سرکولیٹ کر دی گئی ہیں اور آئندہ اجلاس سے قبل مشاورتی عمل میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ