فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ایران روانہ ہوگئے ہیں، جہاں وہ اعلیٰ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے دورے کے دوران ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
URGENT: Pakistan’s Army Chief, Field Marshal Asim Munir, is traveling to Tehran today to continue critical talks and consultations with Iranian authorities, according to the semi-official ISNA news agency. The flash visit comes as Islamabad intensifies its role as the primary… pic.twitter.com/SQeOyWioiB
— The Current Sphere (@current_sphere) May 21, 2026
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں ایران امریکا مذاکرات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے ممکنہ معاہدے کے مسودے کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کیا جا سکتا ہے، جس میں فوری جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں خشکی، سمندر اور فضائی حدود سمیت تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے فوجی، شہری اور معاشی انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔
🔴 BREAKING: The final draft of a possible agreement between the United States and Iran, mediated by Pakistan, is expected to be announced within hours, according to Al Arabiya sources. Its key terms include the following:
🔴 Final draft of possible US-Iran agreement mediated by… pic.twitter.com/Fb0gTmv8nd
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) May 22, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت فوجی کارروائیوں اور میڈیا جنگ کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کی پاسداری بھی یقینی بنائی جائے گی۔
مجوزہ معاہدے میں خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری آمد و رفت کی آزادی کی ضمانت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عملدرآمد اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، امریکی رکن کانگریس کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط
ذرائع کے مطابق باقی ماندہ تنازعات پر مذاکرات 7 روز کے اندر شروع کیے جائیں گے، جبکہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکا مرحلہ وار پابندیاں نرم کرے گا۔ مسودے میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات میں ’مثبت اشارے‘ ملے ہیں، تاہم انہوں نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند روز میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات میں اختلافات کم ہوئے ہیں، تاہم یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات اب بھی اہم رکاوٹیں ہیں۔











