امریکا کا ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور، صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں ہنگامی قیام، تمام مصروفیات منسوخ

ہفتہ 23 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 امریکا ایران پر نئے فوجی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ یہ رپورٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اچانک اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں انہوں نے ملکی حالات اور حکومتی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ویک اینڈ پر اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا اور وائٹ ہاؤس میں ہی قیام کو ترجیح دی۔ دوسری جانب، دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہو گیا ہے۔

عرب میڈیا ادارے’ العربیہ‘ نے امریکی ذرائع ابلاغ ‘سی بی ایس’ اور ‘ایکسائیوس’ کی رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ  امریکا ایران پر نئے فوجی حملوں کی منصوبہ بندی پر غور کر رہا ہے۔ یہ انکشاف صدر ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’حکومتی امور‘ اور ’ملک سے محبت‘ کے باعث اس ویک اینڈ پر اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے سفر نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اہم وقت کے دوران میرا واشنگٹن ڈی سی میں، وائٹ ہاؤس کے اندر موجود رہنا انتہائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے کیا ٹرمپ ایران جنگ ہار رہے ہیں؟ 3ماہ بعد نئی بحث چھڑ گئی

رپورٹس کے مطابق، ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس نازک صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والا ملک پاکستان پسِ پردہ مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے، اور اسی سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ کو تہران بھیجا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کے ذریعے جنگ کے بادلوں کو ٹالا جا سکے۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس پر باقاعدہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ‘سی بی ایس’ کو بتایا کہ صدر نے واضح کر دیا ہے، اگر ایران معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 اس سے قبل جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ نیو جرسی میں اپنے گراؤنڈ ریزورٹ جانے کے بجائے دارالحکومت ہی میں قیام کریں گے۔ نیویارک کے دورے سے واپسی پر صدر ٹرمپ نے معمول کے برعکس صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے سے بھی گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیے ایران جنگ پر اختلافات: مارکو روبیو کی نیٹو وزرا سے ملاقات، ڈونلڈ ٹرمپ اسپین اور جرمنی سے شدید ناراض

‘ایکسائیوس’ نے 2 نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ چند روز سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی سست رفتاری پر سخت مایوسی کا شکار ہیں، اور ہفتے کے دوران ان کا جھکاؤ سفارت کاری کے بجائے فوجی حملے کے احکامات جاری کرنے کی طرف بڑھا ہے۔ ادھر ‘سی بی ایس’ کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام نے اپنی ہفتہ وار چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور انہیں الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp