بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا تیزی سے شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں گزشتہ 69 روز کے دوران 500 سے زائد بچوں کی اموات رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں صحتِ عامہ کی صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین صحت نے حکومت پر بروقت اقدامات نہ کرنے اور ویکسینیشن نظام میں کمزوریوں کا الزام عائد کیا ہے۔
Suspected and confirmed measles deaths top 500 in Bangladesh
Cases have spread rapidly in recent months, overwhelming hospitals and placing severe strain on already fragile healthcare services.https://t.co/9dSnGdtoh3
— The Kathmandu Post (@kathmandupost) May 24, 2026
بنگلہ دیش کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق مارچ کے وسط سے اب تک 62 ہزار 500 سے زائد بچوں میں خسرہ یا اس جیسی علامات ظاہر ہو چکی ہیں، جبکہ تقریباً 50 ہزار بچوں کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عید کی تعطیلات کے دوران شہروں اور دیہی علاقوں کے درمیان بڑے پیمانے پر سفر وائرس کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہر صحت ڈاکٹر بے نظیر احمد نے صورتحال کو ’قومی ایمرجنسی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ 10 سے 13 بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں، مگر بحران کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خسرہ کو باضابطہ وبا قرار دے کر ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی امداد اور اضافی فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی گئی
ڈاکٹروں کے مطابق معمول کی ویکسینیشن میں کمی، ایم آر مہم کی معطلی، غذائی قلت، اسپتال پہنچنے میں تاخیر اور غریب علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچے، خاص طور پر غذائی قلت کے شکار، نمونیا، سانس کی تکلیف، اسہال اور دماغی سوزش جیسی پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈھاکا ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 20 ہزار سے زائد بچوں کا علاج کیا گیا جبکہ 214 اموات رپورٹ ہوئیں۔ راج شاہی، چٹاگانگ، سلہٹ اور بریسال ڈویژنز میں بھی بڑی تعداد میں ہلاکتیں سامنے آئی ہیں۔
Over 500 measles deaths in Bangladesh; government expands vaccinations https://t.co/Vk4nj6pzOF
— Khaleej Times (@khaleejtimes) May 23, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی ویکسینیشن مہم کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور بعض متاثرہ علاقوں میں کیسز میں کمی دیکھی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق 1 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم 20 مئی تک 1 کروڑ 84 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔
وزیر صحت سردار محمد سخاوت حسین نے اعلان کیا ہے کہ عید کے دوران خسرہ کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی چھٹیاں منسوخ رہیں گی تاکہ طبی خدمات بلا تعطل جاری رکھی جا سکیں۔














