امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس کاروباری سیشن کے دوران تقریباً 5 ہزار پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 4 منٹ تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 174,942.03 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 4,985.01 پوائنٹس یعنی 2.77 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
مارکیٹ میں تقریباً تمام بڑے شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔
ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حب پاور، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -4789.71 points (-2.66%) at midday trading. Index is at 175,137.34 and volume so far is 191.55 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/cPX3krbPGH— Investify Pakistan (@investifypk) July 14, 2026
پیر کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی سے ہوا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر فروخت کی، جس سے انڈیکس 180 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا تھا۔
پیر کو بینچ مارک 100 انڈیکس 2,314.73 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد کمی کے بعد 179,927.05 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 2,300 پوائنٹس گر گیا
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔ ایشیائی کاروبار کے آغاز پر عالمی اسٹاک مارکیٹیں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں جبکہ خام تیل کی قیمت ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان تھا کہ امریکا خلیج میں ایرانی جہاز رانی کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کرے گا۔
ابتدائی کاروبار میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں رہی۔

جاپان کا نکی 225 انڈیکس 0.2 فیصد اوپر رہا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 2.6 فیصد اضافے کے بعد 85.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جون کے وسط کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان، بینکنگ، توانائی اور سیمنٹ سیکٹر دباؤ کا شکار
ادھر امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر کے سخت مؤقف نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر بلند رہی تو امریکی مرکزی بینک کو قریب مستقبل میں شرح سود میں مزید اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔














