عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھارت کے مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا واقعی اس کی وجہ گائے کی قربانی ہے یا گائے صرف ہندتوا شاؤنزم کا ایک بہانہ ہے اور اصل واردات کچھ اور ہے؟
مسئلہ اگر گائے کے احترام کا ہوتا تو دنیا میں گائے کے گوشت کے فروخت کے چند بڑے ممالک میں بھارت کا شمار نہ ہوتا۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ گائے کا گوشت دنیا میں بھیجنا درست ہے لیکن گائے کا گوشت مقامی مسلمانوں کے خلاف ویپنائز کر دیا گیا ہے۔
بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان گائے کی قربانی ضد میں کرتے ہیں اور گائے ہندوؤں کے ہاں مقدس سمجھی جاتی ہےاس لیے فسادات شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات درست نہیں ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت کے مسلمان ایک عرصے سے ہندوؤں کی اس حساسیت کے پیش نظر گائے کی قربانی چھوڑ چکے۔ دارالعلوم دیوبند نے کبھی بھی گائے کی قربانی نہیں کی۔ دارالعلوم ہی کی نہیں، حیدر آباد کے مولانا جعفر پاشا حسامی بھی گائے کی قربانی سے مسلماںوں کو روکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہندو مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری ہوتی ہے تو ہمیں ان کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے۔ صورت حال یہ ہے کہ کوئی بھی مدرسہ گائے کی قربانی نہیں کرتا۔ یہ میں نہیں کہہ رہا، ریلیجیس رئٹس اینڈ فریڈم کی رپورٹ ہے کہ پورے ہند میں کسی مدرسے میں بھی گائے کی قربانی کا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
لیکن اس کے باوجود ہر سال مسلمانوں کے لیے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ گائے صرف ایک بہانہ ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندتوا کے سیوم سیوک مسلمانوں کی سماجی ا ور معاشی حالت کے درپے ہیں۔
گائے کی قربانی کے کچھ واقعات یقیناً ہوتے ہوں گے، فطری بات ہے۔ یہ مسلمانوں کا مذہبی حق ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے ان کے علماء کی جانب سے اور ان کے نمائندہ لوگوں کی طرف سے خیر سگالی کا جذبہ نمایاں ہے۔ بھارتی قیادت چاہتی تو اس خیر سگالی کو دو طرفہ بنا سکتی تھی لیکن اسے یہ بھی گوارا نہیں ۔ اسے یہ بھی گوارا نہیں کہ مسلمان رضاکارانہ طور پر کچھ کریں اور جواب میں ہندو کمیونٹی کو بھی خیر سگالی دکھانا پڑے۔ وہ خیر سگالی کی قائل ہی نہیں۔ اسے مسلمانوں سے جبری اطاعت درکار ہے۔ وہ مسلمانوں کو نفسیاتی، سماجی اور معاشی ہر حوالے سے ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مویشی بردار ٹرکوں کو راستے میں لٹ لیا جاتا ہے، ان کے راستے میں کیلیں اور میخیں پھینک دی جاتی ہیں، ٹرک پنکچر ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ ان کے باڑوں پر حملے ہوتے، بھلے وہاں گائے بندھی ہو یا نہ بندھی ہو۔ ان کے گھروں میں بلوائی گھس آتے ہیں کہ فریج چیک کراؤ گاؤ ماتا کا گوشت تو نہیں رکھا۔ مسلمانوں کو سماجی تذلیل اور ہمہ وقت خوف میں مبتلا رکھا جاتا ہے۔ گائے کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کی عید الاضحی سے جڑی خوشیوں اور معیشت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ ایک راستہ یہ بھی نکالا جا سکتا تھا کہ جس ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں گائے کے ذبیحہ کی اجازت ہو گی۔ لیکن بھارت نے کیا کیا؟ بھارت نے قانون سازی کی اور گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگائی لیکن باریک واردات ڈالی۔ یہ نہیں کہا کہ ایسا ہندوؤں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ بلکہ بھارت نے ہندو شاونزم کو سیکولر پیراہن اوڑھا کر قانون سازی کی۔
یہ بڑی دلچسپ واردات ہے۔ جب بھارت کا آئین بننے لگا تو آرٹیکل 48 کا مسودہ پیش کیا گیا۔ اس میں لکھا گیا کہ بھارت کی معیشت کی بہتری کا تقاضا ہے کہ زراعت اور مویشیوں پر خاص توجہ دی جائے۔ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور مویشیوں کی نسل کو بچانے اور ان کی افزائش کرنے لیے ان کی حفاظت کی جائے اور گائے اور بچھڑوں کو ذبح نہ کیا جائے۔
یہ بظاہر زراعت، لائیو سٹاک اور ملکی معیشت کی بہتری کا فارمولا تھا لیکن اس فارمولے میں تان گائے اور بچھڑے کے ذبیحہ پر پابندی پر آ کر ٹوٹی ۔
یاد رہے کہ یہ کام بی جے پی نہیں کر رہی تھی۔ یہ کانگریس کر رہی تھی۔ اس وقت کر رہی تھی جب ابوالکلام آزاد صاحب جیسے وہ مسلمان رہنما زندہ تھے جنہون نے کانگریس کا ساتھ دیا۔
بھارتی پارلیمان میں موجود مسلمان اراکین نے کہا کہ اس بل کا معیشت سے کیا تعلق، یہ تو ہندو مذہب کی تعلیمات تمام شہریوں کے سر پر تھونپنے والی بات ہے۔ کہا کہ آپ طے کر لیجیے آپ ایک ہندو ریاست ہیں یا ایک سیکولر ریاست۔ اگر آپ ایک سیکولر ریاست ہیں تو کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کی خواہش کو آئین کا حصہ بنا کر آپ تمام شہریوں پر یہ پابندی کیسے لگا سکتے ہیں کہ وہ گائے اور بچھڑے کو ذبح نہ کریں۔
اس پر کانگریس کی قیادت نے کہا کہ اس کا تعلق ہندو مذہب سے ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف ملک کی زرعی معیشت کے تحفظ اور اس میں بہتری کی کوشش ہے، اس پر ہندو اراکین غصے میں آ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہاں ایسا ہے تو ایسا ہی سہی، ہم گائے کو ذبح کرنے پر پابندی لگانا چاہتے ہیں کیوں یہ ہمارے عقیدے کا معاملہ ہے۔
اس کے جواب میں ایک مسلمان رکن نے اُٹھ کر کہا کہ پھر گائے ا ور بچھڑے کی شرط کیسی۔ اسے ختم کر دیجیے اور یہاں لکھ دیجیے کہ ’کسی فائدہ مند جانور کو ذبح نہیں کیا جائے گا‘۔ تاکہ جو جانور ملکی معیشت میں مفید ہیں وہ بچ جائیں لیکن جو بیمار اور لاغر ہیں کم از کم انہیں تو ذبح کر کے کھا لیا جائے۔ مسلمان اراکین نے کہا کہ اگر ذبح کرنے پر پابندی لگا دی تو یہ بیمار جانور تو مرنے لگیں گے اور اس سے ملکی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔اس لیے آپ اس پابندی کو صرف ’مفید جانوروں‘ تک محدود رکھیں۔
مسلمانوں کی یہ تجویز بھی رد کر دی گئی اور کہا گیا کہ گائے اور بچھڑا اگر کسی وقت غیر مفید بھی ہوں تب بھی انہیں ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
چنانچہ یہ آرٹیکل پاس ہو گیا، بھارتی آئین کا حصہ بن گیا اور پالیسی کے رہنما اور بنیادی اصولوں میں درج کر دیا گیا۔یہ کانگریس کا فاشزم تھا جو معیشت کے لبادے میں متعارف کرایا گیا۔
ہمیں بھارتی سیکولرزم کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں لیکن بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 ہی میں قرار دیا گیا کہ صرف ہندو مذہب ایسا مذہب جس کی ریاست سرپرستی کرے گی اور صرف ہندو مذہب کی عبادت گاہوں کی بحالی اور بقا کی بات آئین میں شامل کی گئی ہے۔ باقی مذاہب کے حوالے سے ایسی کوئی چیز بھارتی آئین میں شامل نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ آئین کانگریس نے بنایا تھا۔
عید الاضحیٰ آتی ہے تو ہندو بلوائی مسلمانوں کی زندگی عذاب کر دیتے ہیں۔ جموں میں جتھے پھر رہے ہیں جو کشمیر کی وادی کو جانے والے ٹرکوں پر حملے کرتے ہیں اور مویشی لوٹ لیے جاتے ہیں۔ بہانہ یہی ہوتا کہ گاؤ ماتا کو لے کر جا رہے تھے۔ مویشی منڈیوں پر حملے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے گھر تک محفوظ نہیں رہتے۔ یہ لمبی کہانی ہے اور اس کی تفصیل ایک کالم میں بیان نہیں ہو سکتی۔
لیکن سمجھنے کی بنیادی بات یہ ہے کہ گائے ایک بہانہ ہے۔ اصل مسئلہ مسلمانوں کا معاشی سماجی ا ور نفسیاتی استیصال ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں ہے کہ ہندتوا مسلمانوں کے خلاف بالکل وہی پالیسی لے کر چل رہا ہے جو صیہونیت فلسطینیوں کے خلاف لے کر چل رہی ہے۔ ہندتوا اور صیہونیت میں مماثلت کیا کیا ہے؟ یہ البتہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی الگ سے تفصیل سے بات کریں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











