یونیسف کے تعاون سے بلوچستان میں ’ڈی ایچ آئی ایس 2‘ نامی جدید ڈیجیٹل طبی نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس سے مریضوں کا ریکارڈ فوری طور پر محفوظ اور دستیاب ہو رہا ہے۔ اس نظام نے پرانے کاغذی ریکارڈ اور محدود ڈیجیٹل نظام کی جگہ لی ہے۔
مزید پڑھیں: عید قربان، بلوچستان میں کون کون سی خاص سوغاتیں تیار کی جاتی ہیں؟
نئے نظام کے تحت طبی عملہ مراکز صحت میں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کا ڈیٹا اپ لوڈ کر رہا ہے، جبکہ موبائل ایپ کے ذریعے انٹرنیٹ کے بغیر بھی معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں۔
یونیسف نے اس منصوبے کے لیے آئی ٹی آلات فراہم کیے اور 4,500 سے زائد طبی کارکنوں کو تربیت دی۔
کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں اس نظام سے طبی رجحانات کی فوری نگرانی ممکن ہو گئی ہے، جس سے ممکنہ وباؤں اور طبی مسائل پر بروقت کارروائی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان اسمبلی میں ’فرینڈلی اپوزیشن‘ پر سوالات، کیا حکومت کو کھلا میدان مل گیا؟
ماہرین کے مطابق ’ڈی ایچ آئی ایس 2‘ اب بلوچستان کے 1,650 سے زائد طبی مراکز میں بہتر طبی خدمات کی فراہمی میں مدد دے رہا ہے اور مستقبل میں اس نظام کو بڑے اسپتالوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔














