ملک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ اور آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد کے پہاڑی جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جس سے قیمتی جنگلات اور قدرتی ماحول کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی جنگلات میں بھڑکنے والی آگ سالانہ کتنی جانیں نگل جاتی ہے؟
مالاکنڈ کی تحصیل بٹ خیلہ کے سنگینہ پہاڑ میں لگی آگ نے شدت اختیار کرلی ہے، جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور شہریوں نے آگ پر قابو پانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مقامی مساجد سے اعلانات کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ آگ بجھانے کی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور متعلقہ اداروں کی مدد کریں۔
پولیس حکام کے مطابق ضلع مالاکنڈ کی تینوں تحصیلوں کے مختلف پہاڑی سلسلے اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ تحصیل بٹ خیلہ کے سنگینہ پہاڑ، درگئی کے جبن پہاڑ اور تحصیل تھانہ کے بایزی، آلہ ڈھنڈ ڈھیری اور زرکنڈی تنگے کے پہاڑی علاقوں میں آگ پھیلنے سے متعدد قیمتی درخت جل چکے ہیں جبکہ جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
مری کی تحصیل کوٹلی ستیاں کے علاقے لہتراڑ کے جنگل میں لگنے والی آگ پر محکمہ جنگلات، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔ دشوار گزار علاقے اور سڑک کی عدم دستیابی کے باعث امدادی عملے نے پیدل موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی… pic.twitter.com/Wtp0tYvESg
— Asif Mehmood (@imasifmehmood) May 29, 2026
دوسری جانب مظفرآباد کے نواحی پہاڑی جنگلات میں بھی آگ بھڑک اٹھی ہے، جس کے باعث محکمہ جنگلات اور امدادی ٹیمیں صورتحال پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
محکمہ جنگلات کے کنزرویٹر میر نصیر نے بتایا کہ شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث چیڑھ کے جنگلات میں قدرتی طور پر آگ لگنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ جنگلات کو آگ بجھانے کے لیے درکار جدید آلات اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے روایتی طریقوں سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موسیٰ خیل کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، جنگلی حیات شدید خطرات سے دو چار
انہوں نے مزید کہا کہ تیز ہوائیں اور دشوار گزار پہاڑی راستے امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں، تاہم متعلقہ ادارے اور مقامی رضاکار آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور جنگلاتی علاقوں میں خشک سالی کے اثرات ایسے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جس کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور جدید فائر فائٹنگ نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔













