عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستانی سنیما گھروں کی رونقیں بڑھانے کے لیے نئی فلم ’لو دی سون‘ نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔ فلم میں رومانس، ایکشن اور سنسنی خیز مناظر کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ اور مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل جیسے سنجیدہ سماجی موضوعات کو بھی کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے فرحان سعید اور مامیا شجافر کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ناظرین فلم دیکھنے کے بعد صرف تفریح ہی نہیں بلکہ ایک اہم سماجی پیغام بھی اپنے ساتھ لے کر جائیں۔
Luv Di Saun (Pakistani) – Releasing on Eid-ul-Adha 2026 at Nueplex Cinemas pic.twitter.com/8zvT8kOQLq
— NueplexCinemas (@NueplexCinemas) May 20, 2026
لاہور کے تاریخی پس منظر میں بنائی گئی اس فلم کی کہانی ایک محبت بھرے رشتے کے گرد گھومتی ہے، تاہم آگے بڑھتے ہوئے انسانی اسمگلنگ، استیصال اور مشکلات کا شکار خواتین کی زندگیوں کے پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ فرحان سعید کے مطابق پاکستانی کمرشل سنیما میں پہلی بار مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کے مسائل کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں اسمگل ہونے والی لڑکیوں کا مسئلہ صرف کسی ایک طبقے یا مذہب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع انسانی المیہ ہے۔

اداکارہ مامیا شجافر نے اپنے کردار کو درد، جدوجہد اور نئی زندگی کی امید کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم یہ پیغام دیتی ہے کہ ہر انسان کو زندگی میں دوسرا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک فنکار کی ذمہ داری صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے لیے مثبت پیغام پہنچانا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے
دلچسپ بات یہ ہے کہ فرحان سعید اور مامیا شجافر اس سے قبل ڈراما ’جھوک سرکار‘ میں ایک ساتھ نظر آ چکے ہیں، تاہم ’لو دی سون‘ میں پہلی بار دونوں مرکزی رومانوی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان آن اسکرین کیمسٹری بہت فطری انداز میں قائم ہوئی۔
فلم میں سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والے خان بابا بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ فلمائے گئے ایکشن مناظر کو فرحان سعید نے اپنے لیے ایک دلچسپ اور جسمانی طور پر مشکل تجربہ قرار دیا۔
can't wait for luv di saun 💕@farhan_saeed #farhansaeed #luvdisaun pic.twitter.com/YAqYRVrGcC
— lizuu (@farhandiaries7) May 16, 2026
اداکاروں کا کہنا ہے کہ عید پر ریلیز ہونے والی متعدد پاکستانی فلموں کے درمیان مقابلہ دراصل ملکی فلم انڈسٹری کے لیے خوش آئند ہے، تاہم اصل مسئلہ سنیما گھروں کی محدود تعداد ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک میں جدید سنیما اسکرینوں کی تعداد بڑھائی جائے تو پاکستانی فلمی صنعت مزید ترقی کر سکتی ہے۔













