سندور 2.0 کی دھمکی، بھارت کو سنجیدہ آرمی چیف کی شدید ضرورت ہے، دفاعی ماہرین

ہفتہ 30 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفاعی ماہرین نے بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کی جانب سے ’آپریشن سندور 2.0‘ کی تیاریوں کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیان کو سفارتی اور دفاعی ماہرین نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دے دیا ہے۔

دفاعی ماہرین  کا کہنا ہے کہ خود کو خطے کا رہنما کہلوانے والے ملک کے عسکری سربراہ کی طرف سے اس طرح کا غیر پختہ رویہ جنوبی ایشیا کے امن کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’آپریشن سندور پر آپ ویڈیو بنانے میں جلدی کرگئے‘، پاکستانی کے سوال پر دھرو راٹھی لاجواب ہوگئے

دفاعی ذرائع اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارت اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف مسلسل جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا مظاہرہ کر کے خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔

ماہرین نے نئی دہلی کو ماضی کی یاد دہانی کرواتے ہوئے واضح کیا کہ مئی 2025 میں جب بھارتی فوج نے اپنی انتہا پسند سیاسی قیادت کے ایما پر پاکستان کے خلاف عسکری مہم جوئی کی ناکام کوشش کی تھی، تو اسے عبرتناک ہزیمت اور منہ کی کھانی پڑی تھی۔ اگر اب بھی بھارتی قیادت ’آپریشن سندور 2.0‘ جیسے خواب دیکھ رہی ہے، تو اس کا انجام بھی پہلے سے مختلف نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مئی 2025 کے بحران کے بعد سے عالمی برادری نے پاکستان کی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیتوں، اسٹریٹجک تحمل اور پختہ سفارت کاری کا اعتراف کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کو دنیا بھر میں خطے کے امن و سلامتی کا حقیقی ضامن تسلیم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

 دوسری جانب، بھارتی فوج بھارت ‘آپریشن سندور 2.0’ کی تیاری کررہا ہے، بھارتی آرمی چیف کی بڑھکیںکا موجودہ بیانیہ مکمل طور پر پیشہ ورانہ اقدار سے عاری اور وہاں کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کے انتخابی و سیاسی ایجنڈے کے تابع نظر آتا ہے، جہاں اپنی اندرونی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے اور عوامی ہمدردی سمیٹنے کے لیے مسلسل پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے بھارتی مسلح افواج کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیاسی برانڈنگ اور اندرونی رائے عامہ کو مطمئن کرنے والی اطلاعاتی جنگ کے بجائے بحران کے خاتمے، باہمی دفاع اور علاقائی استحکام پر توجہ دیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد گیدڑ بھبکیوں اور دھمکیوں کے تبادلے پر نہیں، بلکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات پر بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کے آغاز پر قائم ہے۔

 پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، سفارتی روابط اور پُرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر گامزن ہے، تاہم وہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی سالمیت پر آنچ آنے کی صورت میں مادرِ وطن کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت اور مکمل طور پر تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم