بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ‘آپریشن سندور 2.0’ کی تیاری کررہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے مبینہ دہشت گردانہ حملے کے جواب میں جو فوجی پوزیشن اختیار کی گئی تھی، وہ اب بھی برقرار ہے۔
نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ ‘آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے’ اور موجودہ صورتحال کو انہوں نے ‘عارضی جنگ بندی’ سے تشبیہ دی۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور میں بھارت کے کتنے اور کون کون سے جنگی طیارے تباہ ہوئے، تفصیلات سامنے آگئیں
انہوں نے کسی ملک کا براہ راست نام لیے بغیر کہا کہ اگر کسی نئی عسکری کارروائی کی ضرورت پڑی تو نہ صرف بری فوج بلکہ بھارتی فضائیہ اور بحریہ بھی اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج اور تینوں مسلح افواج ممکنہ ‘آپریشن سندور 2.0’ کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں اور اس وقت تینوں افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو بڑھانے اور 24 گھنٹے اگلے دور کی جنگی حکمتِ عملی کے مطابق لیس ہونے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کا ایک سال مکمل، سکھ برادری کیسے خوشیاں منا رہی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں میدانِ جنگ اس قدر شفاف ہو چکا ہے کہ ہر قسم کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی ہے، اس لیے ہمیں اپنی تعیناتی اور سرحدی علاقوں میں فوجیوں و شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنا ہو گا۔
یاد رہے کہ بھارت نے 7 اور 8 مئی 2025 کی درمیانی رات کو ‘آپریشن سندور’ کے نام سے ایک فوجی کارروائی شروع کی تھی، جو کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام کی بائسران وادی میں ہونے والے ایک حملے کا ردعمل تھی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔













