کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں خالد بن ولید روڈ کے قریب مبینہ ڈکیتی کی واردات کے دوران ایک مشتبہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: خاتون ٹک ٹاکرز نے پی ای سی ایچ ایس میں تاجر کے گھر سے 13 کروڑ کی ڈکیتی کیسے کی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ واقعہ ہفتے کو علی الصبح طارق روڈ کے قریب پیش آیا جہاں ایک مشتبہ شخص ایک بنگلے میں قائم ٹریول ایجنسی کے دفتر میں مبینہ طور پر ڈکیتی کی نیت سے داخل ہوا تھا۔
فیروز آباد تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عدیل افضل نے بتایا کہ جیسے ہی پولیس موقعے پر پہنچی لیکن ملزم نے گرفتاری کے خوف سے خود کو گولی مار لی اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
مزید پڑھیے: کراچی، پولیس یونیفارم پہن کر شہریوں کے اغوا اور ڈکیتی میں ملوث ملزمان گرفتار
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت اسی ٹریول ایجنسی کے ملازم کے طور پر ہوئی ہے جو گزشتہ 5 برس سے ادارے کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم نے مبینہ طور پر دفتر میں داخل ہونے کے لیے چابی کی نقل تیار کر رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب مالک مکان کو شبہ ہوا کہ بنگلے کے اندر کوئی موجود ہے تو اس نے فوری طور پر مددگار 15 اور مقامی پولیس کو اطلاع دی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقعے پر پہنچی اور بنگلے کا محاصرہ کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم نے خود کو واش روم میں بند کر لیا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے خود پر فائر کر لیا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں مبینہ ڈکیتی کا وہ پلان جو 3 سہیلیوں نے ترتیب دیا
لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔













