وفاقی حکومت نے ملک میں مینوفیکچرنگ اور صنعتی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے خام مال اور انٹرمیڈیٹ اشیاء کی درآمد پر کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کی مد میں تقریباً 200 ارب روپے کا بڑا ٹیکس ریلیف دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ بجٹ میں آٹو سیکٹر کو ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تاریخی پیکیج کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا جس کا بنیادی مقصد برآمداتی صنعتوں کے لیے پیداواری لاگت کو نمایاں حد تک کم کرنا ہے۔
وزارتِ تجارت اور ٹیرف پالیسی بورڈ نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ان اشیاء کی فہرست تیار کر لی ہے جن پر ڈیوٹی کی شرح کو صفر یا کم سے کم سلیب پر لایا جائے گا۔
اس ریلیف پیکیج کے تحت ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد اہم شعبوں کو سستا خام مال درآمد کرنے کی سہولت میسر آئے گی جس سے مقامی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل ہوسکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی ہدایت پر ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس، عوام کو ریلیف فراہم
اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسٹمز ڈیوٹی میں اس بڑے ریلیف سے اگرچہ فوری طور پر ایف بی آر کے ریونیو پر بوجھ پڑے گا، تاہم طویل مدت میں اس کے نتیجے میں ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکومت اس اقدام کے ذریعے سمگلنگ کی روک تھام اور قانونی درآمدی چینلز کو فروغ دینے کے لیے بھی پرامید ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جاسکے۔













