سندھ کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے، وفاق فوری نوٹس لے، شرجیل انعام میمن

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ صوبہ اس وقت شدید پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے جس سے نہ صرف زرعی شعبہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ کراچی سمیت پورے سندھ کو پانی کی فراہمی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: پانی کے منصوبے کے لیے واٹر بورڈ کو ساڑھے 10 ارب روپے کی فراہمی کا اعلان

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں پانی کی قلت 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی کمی 42 فیصد اور کوٹری بیراج پر 29 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ارسا کی جانب سے سندھ کے جائز تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ’شارٹیج ایکولائزیشن‘ کے نام پر صوبے کے حصے میں غیر منصفانہ کمی کی جا رہی ہے، جو 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک صوبے کو دوسرے کے حصے پر ترجیح دینا ناقابل قبول ہے۔

سینیئر وزیر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور قانون کے مطابق سندھ کو اس کا جائز پانی فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھیے: کراچی: ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ، متبادل نظام کیا ہوگا؟

شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت صوبے کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp