وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل
میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار رہا، جس کے باعث متعدد منصوبے متاثر ہوئے۔
اجلاس میں وفاقی وزارتوں، چاروں صوبوں کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے ترقیاتی بجٹ اور اقتصادی اہداف کا جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عید کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کمی
احسن اقبال نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے دوران پاکستان میں ترقیاتی بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوا اور ملک بھر میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2018 میں ترقیاتی بجٹ کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ اخراجات کیے گئے تھے، تاہم اس کے بعد ترقیاتی شعبے میں زوال کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد رہ گئی ہے.
https://Twitter.com/search?q=Ahsan%20Iqbal&src=typed_query&f=top
جبکہ 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص وسائل میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے نسبتاً زیادہ وسائل کے حامل ہو گئے ہیں جبکہ وفاق کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر نے 11 ماہ میں 99.8 فیصد ہدف حاصل کر لیا، مالی بحران کی خبروں کی تردید
ان کے بقول وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 1126 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔
جبکہ مالی سال 27-2026 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش بھی زیر بحث آئی۔












