محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 2 جون سے ملک کے بالائی علاقوں میں آندھی، گرج چمک اور بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے جو 5 جون تک جاری رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ایک مغربی ہوا کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: شدید گرمی کی لہر کے بعد بارش اور آندھی کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات
محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد میں مختلف مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئی کی ہے۔
آزاد کشمیر میں 2 جون سے 5 جون تک وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں بالا، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔
گلگت بلتستان میں 4 جون سے 6 جون کے دوران دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے اور شگر میں وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، ملاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، ہنگو اور کرم میں 2 جون سے 5 جون تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ سندھ کے بالائی اضلاع سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، خیرپور، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور اور شہید بینظیر آباد میں 2 جون سے 4 جون تک آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
اسی طرح بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں کوئٹہ، ژوب، شیرانی، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں بھی 2 جون سے 4 جون تک آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ موسمی نظام کمزور اور خستہ حال تعمیرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ 3 جون سے 6 جون کے دوران خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بھر میں گرم اور خشک موسم کی لہر برقرار، محکمہ موسمیات کی وارننگ
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال کے مطابق اپنی فصلوں کے انتظامات کریں، جبکہ سیاحوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔














