انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے حالیہ بورڈ اجلاس میں دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے فرنچائز کرکٹ کے رجحان اور بین الاقوامی کرکٹ پر اس کے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فرنچائز کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر ایک ’خصوصی کمیٹی‘ تشکیل دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردی، قومی کھلاڑیوں کی تنزلی
یہ کمیٹی عالمی کرکٹ کیلنڈر اور مختلف ممالک میں ہونے والی فرنچائز لیگز کے شیڈول کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے گی تاکہ دونوں طرز کی کرکٹ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور بین الاقوامی کرکٹ کے وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔
مذکورہ فیصلوں کے ساتھ ساتھ آئی سی سی بورڈ نے کرکٹ کینیڈا کی رکنیت بھی معطل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم معطلی کے باوجود کینیڈا کی قومی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی کے آفیشل ایونٹس میں شرکت جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک 2 رکنی وفد وہاں بھیجنے کی بھی منظوری دی ہے۔
فرنچائز کرکٹ کی بھرمار اور کینیڈا کرکٹ کا بحران
آئی سی سی کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹی 20 اور ٹی 10 لیگز کی بھرمار ہو چکی ہے۔ آئی پی ایل، پی ایس ایل، بیگ بیش اور کیریبین پریمیئر لیگ کے بعد اب امریکا(میجر لیگ) اور متحدہ عرب امارات (آئی ایل ٹی 20) جیسی نئی لیگز نے سالانہ کرکٹ کیلنڈر کو بری طرح جکڑ لیا ہے۔
اس صورتحال کی وجہ سے کئی نامور بین الاقوامی کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے بجائے بھاری معاوضوں کے عوض ’فرنچائز کرکٹ‘ کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے دوطرفہ سیریز کا معیار اور مقبولیت متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب کرکٹ کینیڈا طویل عرصے سے اندرونی انتظامی خلفشار، گورننس کے مسائل اور مالیاتی بے ضابطگیوں کا شکار رہا ہے۔
آئی سی سی ماضی میں بھی ایسے بورڈز کے خلاف سخت ایکشن لیتا رہا ہے جو ان کے ’گورننس ماڈل‘ پر پورا نہیں اترتے، جیسا کہ ماضی قریب میں سری لنکا اور زمبابوے کرکٹ بورڈز کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ تاہم، کھلاڑیوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹیم پر پابندی نہیں لگائی گئی۔
مزید پڑھیں:ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کی ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کیخلاف امتیازی سلوک کی تردید
بنگلا دیش کا معاملہ بھی حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور کرکٹ بورڈ میں حکومتی مداخلت کے خدشات سے جڑا ہوا ہے، جس کی جانچ کے لیے وفد روانہ کیا جا رہا ہے۔
آئی سی سی کے فیصلوں کے مستقبل پر اثرات
آئی سی سی بورڈ کے ان فیصلوں کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ کرکٹ کی بقا اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے۔
فرنچائز کرکٹ کا کھیل کو پہنچنے والا نقصان
خصوصی کمیٹی کا قیام اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اگر آئی سی سی نے لیگز کے لیے کو حد مقرر نہ کی یا کھلاڑیوں کی شرکت پر کوئی حد نہ لگائی، تو مستقبل میں بین الاقوامی ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ صرف چند بڑے ممالک تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ کمیٹی کو یہ چیلنج درپیش ہوگا کہ وہ امیر کرکٹ بورڈز اور فرنچائز مالکان کو ناراض کیے بغیر بین الاقوامی میچز کے لیے وقت کیسے نکالتی ہے۔
کرکٹ کینیڈا کی معطلی
کینیڈا کی رکنیت معطل کرنا لیکن ٹیم کو کھیلنے کی اجازت دینا آئی سی سی کی ’سمارٹ ڈپلومیسی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی سی سی کینیڈین بورڈ کے عہدیداران کو سزا دینا چاہتا ہے نہ کہ وہاں کے ٹیلنٹ اور کھلاڑیوں کو۔ اس فیصلے سے کینیڈا میں کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے کو درست کرنے میں مدد ملے گی اور بورڈ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے معاملات شفاف بنائے۔
مجموعی طور پر آئی سی سی کا یہ اجلاس یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی اب کھیل کے کمرشلائزیشن اور رکن ممالک کی اندرونی سیاست کے حوالے سے زیادہ سخت اور فعال موڈ میں آ چکی ہے۔














