پاکستان کے معدنی وسائل عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز، بلوچستان کا امن فیصلہ کن قرار

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کے ابھرتے ہوئے نظام میں اہم معدنیات پر کنٹرول تیزی سے ٹیکنالوجی، صنعت، قومی سلامتی اور جغرافیائی سیاست کا تعین کرنے والا عنصر بنتا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی طلب 2030 تک 3 گنا سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ 10 برسوں کے دوران تانبے کی طلب میں قریباً 40 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

فی الوقت چین عالمی معدنیاتی نظام میں نمایاں برتری رکھتا ہے اور اہم معدنیات کی پیداوار، ریفائننگ اور پراسیسنگ کے بڑے حصے پر اس کا کنٹرول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک میں سپلائی چین کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکا کے لیے معدنی وسائل تک رسائی قومی سلامتی کا معاملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اہم معدنیات تک متنوع رسائی کو قومی سلامتی کی ترجیح قرار دیا گیا۔ چین کے زیرِ اثر سپلائی چینز کے متبادل کی تلاش میں امریکا کو کئی موجودہ سپلائر ممالک میں معاشی، انفراسٹرکچر اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ اس صورتحال میں پاکستان ایک اہم لیکن کم استعمال شدہ موقع کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

پاکستان کے معدنی ذخائر کھربوں ڈالر مالیت کے قرار

رپورٹ کے مطابق پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ملک میں دنیا کے دوسرے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جن کا حجم 185 ارب ٹن سے زیادہ بتایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کے ساتویں بڑے تانبے کے ذخائر کا بھی حامل ہے۔

سرکاری تخمینوں کے مطابق پاکستان کے مجموعی معدنی وسائل کی مالیت 6 کھرب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ بلوچستان میں قریباً 6 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر تانبہ، سونا، کرومائٹ، لوہا، لیتھیم اور نایاب معدنی عناصر کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

ریکوڈک منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز

ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں سب سے اہم منصوبے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسے دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبہ و سونا منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تخمینوں کے مطابق منصوبہ ابتدائی مرحلے میں سالانہ قریباً 2 لاکھ ٹن تانبہ اور ڈھائی لاکھ اونس سونا پیدا کرے گا، جبکہ آئندہ 37 برسوں میں اس منصوبے سے 74 ارب ڈالر کے قریب آزاد مالی منافع حاصل ہونے کی توقع ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے پر قریباً 5.5 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک پاکستان کے معدنیاتی شعبے کے لیے قریباً 1.25 ارب ڈالر کی مالی معاونت میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔

پاکستان کو دیگر معدنی پیدا کرنے والے ممالک پر برتری حاصل

تجزیے کے مطابق آسٹریلیا، کینیڈا، برازیل اور کئی افریقی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کو متعدد مسابقتی فوائد حاصل ہیں۔ ملک میں مزدوری کے اخراجات نسبتاً کم ہیں، سرمایہ کاری کے ڈھانچے زیادہ لچکدار ہیں اور معدنی ذخائر بڑی حد تک غیر ترقی یافتہ حالت میں موجود ہیں۔

مزید برآں گوادر بندرگاہ کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے باعث نقل و حمل کے اخراجات اور وقت میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اصل چیلنج جغرافیائی نہیں بلکہ جیوپولیٹیکل قرار

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ معدنی ذخائر کی موجودگی نہیں بلکہ علاقائی سلامتی اور جیوپولیٹیکل صورتحال ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی جائزوں کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی اور علیحدگی پسند سرگرمیاں معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور رابطہ کاری کے منصوبوں کو متاثر کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

گوادر اور سی پیک خطے کی سیاست کا اہم محور

رپورٹ کے مطابق گوادر بندرگاہ، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے، عالمی توانائی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستوں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

اسلام آباد کے نقطۂ نظر سے بلوچستان میں عدم استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے تزویراتی مفادات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستانی اداروں کا مؤقف ہے کہ دشمن انٹیلی جنس نیٹ ورکس سرحدی علاقوں میں دراندازی اور تخریبی سرگرمیوں کے لیے مختلف عناصر کو استعمال کرتے ہیں۔

افغانستان کی صورتحال بھی تشویش کا باعث

تجزیے میں افغانستان کے کردار کو بھی علاقائی عدم استحکام کا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان بارہا افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق سرحد پار دہشتگردی کے واقعات نے نہ صرف کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو متاثر کیا بلکہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔

وسطی ایشیا اور امریکا کے مفادات بھی متاثر ہونے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں کو گرم پانیوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جو ان ممالک کے لیے ایک بڑی معاشی اور تزویراتی ضرورت ہے۔

یہ راستہ یوریشیائی انضمام، توانائی کے متبادل ذرائع اور علاقائی توازن کے حوالے سے امریکی مفادات سے بھی مطابقت رکھتا ہے، تاہم دہشتگردی اور پراکسی عدم استحکام ان مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

امریکا کو تزویراتی تضاد کا سامنا

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف امریکا چین سے ہٹ کر اہم معدنیات تک محفوظ اور متنوع رسائی چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے معدنی وسائل سے بھرپور علاقوں میں بدامنی، پراکسی تنازعات اور خراب ہوتی سیکیورٹی صورتحال ان سرمایہ کاری مواقع کو متاثر کر رہی ہے جن کی واشنگٹن کو ضرورت ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت اور طالبان کے درمیان ابھرتا ہوا مفاداتی اشتراک پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں بیرونی شراکت داری کو متاثر کرتا ہے تو اس سے امریکا کے وسیع تر تزویراتی مقاصد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کے معدنی وسائل امریکا کے لیے زیادہ اہم قرار

تجزیے کے مطابق اگرچہ چین پاکستان کے معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اپنے وسیع ذخائر اور پراسیسنگ کی صلاحیت کے باعث وہ ان وسائل پر انحصار نہیں کرتا۔

اس کے برعکس پاکستان کے معدنی ذخائر امریکا کے لیے نسبتاً زیادہ تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ واشنگٹن اہم معدنیات کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔

امریکا کے سامنے اہم پالیسی سوال

مضمون میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا امریکا علاقائی رقابتوں، شدت پسند عناصر کی پناہ گاہوں اور بھارت و طالبان کے درمیان ممکنہ مفادات کے اشتراک کو پاکستان کے اہم معدنی وسائل تک اپنی طویل المدتی رسائی میں رکاوٹ بننے دے گا یا اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حکمت عملی اختیار کرے گا۔

تجزیے کے مطابق اس سوال کا جواب نہ صرف امریکی معدنیاتی حکمت عملی بلکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مستقبل کی عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں اس کے کردار کا تعین بھی کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم جوڈیشل کونسل کا بڑا فیصلہ، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایت خارج

حکومت تیز تر معاشی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، وزیراعظم شہباز شریف

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

مسائل حل ہونے کے باوجود تصادم کا راستہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتشار کی راہ پر گامزن

آئی سی سی کا فرنچائز کرکٹ کے خلاف بڑا ایکشن، کینیڈا کی رکنیت بھی معطل

ویڈیو

بھارت ایک بار پھر شوق پورا کرلے، افواج پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

جنگلی حیات پر تحقیق اور آگاہی کے لیے سرگرم نوجوان جوڑے کی کہانی

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک