ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال برقرار، مظفرآباد میں 3 جون کو آل پارٹیز کانفرنس طلب

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر مطالبات پر غور و خوض کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) 3 جون کو مظفرآباد میں طلب کرلی گئی۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرصدارت آزاد کشمیر کی صورت حال پر آج اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

مزید پڑھیں: مسائل حل ہونے کے باوجود تصادم کا راستہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتشار کی راہ پر گامزن

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی احتجاج کی کال اور کچھ روز قبل مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات پر بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر سمیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے تعلق رکھنے والے دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس کے علاوہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی میں شامل وفاقی وزرا سمیت دیگر رہنما بھی شریک ہوئے اور وزیراعظم کو ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والی گفت و شنید سے آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے سے دستبردار نہ ہوتے ہوئے 9 جون کو احتجاج کی کال برقرار رکھی۔

آج مظفرآباد میں ہونے والے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کا راشن جمع کرلیں، 9 جون کو ریاست بھر میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کرتے ہوئے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات منظور کرائے تھے، جس کے بعد انہیں عوام میں پذیرائی ملی۔

گزشتہ برس ستمبر میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بڑا احتجاج کیا اور 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔

آزاد کشمیر حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 36 مطالبات پورے کردیے گئے ہیں، تاہم اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبات پر کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ، کیا ہڑتال واقعی آخری راستہ تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبہ؟ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگر سمجھتی ہے کہ وہ عوام میں اتنی مقبول ہے تو الیکشن میں حصہ لے اور پھر اپنی مرضی کی قانون سازی کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت بار بار بلیک میل ہوکر ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے کرتی رہے گی تو پھر ہر کوئی اپنے مطالبات منوانے کے لیے جتھے لے کر حملہ آور ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا

پاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کا اعلان

ملک میں گدھوں اور خچروں سمیت دیگر مویشیوں کی تعداد میں اضافہ

خیالی پلاؤ: جاگتے میں خواب دیکھنا ٹھیک لیکن لت خطرناک

9 اور 10 محرم الحرام کب؟ ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کردی

ویڈیو

ایم پی ایز نے بغاوت کردی، کیا سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں ہے؟

بھارت ایک بار پھر شوق پورا کرلے، افواج پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک