عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ نہیں، دال میں کچھ کالا ہوا تو نکال دیں گے، رانا ثنااللہ

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بیک چینل رابطہ نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی بیک چینل یا سیاسی عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کو دال میں کالا نظر آرہا ہے، اگر ایسا کچھ ہے تو اسے نکال کر باہر پھینک دیں گے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کا معاملہ، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی

انہوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن سے ملاقات تبدیلی نہیں بلکہ مثبت عمل ہے۔

صوبوں کے لیے 28ویں ترمیم کی ضرورت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبوں کے لیے پیشرفت ہونی ہے تو اس کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ صوبوں کے لیے کوئی ترمیم لائی جارہی ہے، کوئی چیز آنی ہے تو کابینہ میں آئے گی۔

عمران خان کے علاج سے متعلق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے علاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، نواز شریف کا کیس مختلف تھا۔ جیل سے مریض کو سرکاری اسپتال میں ہی لایا جاتا ہے، جیل اسپتال میں انجیوگرافی کی سہولت موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں عمران خان کی انجیوگرافی نہیں ہوئی۔ کسی کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو انجیوگرافی ہوتی ہے، میرا خیال ہے کہ عمران خان کو دل کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کو کئی مرتبہ پمز اسپتال لایا گیا۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو ریلیف ملے گا، تاہم بنی گالا کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح کمیٹڈ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp