فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا ایک اعلیٰ سطح وفد بدھ کے روز مصر میں ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا، جس کا مقصد غزہ میں جاری نازک جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کی راہیں تلاش کرنا ہے۔
حماس کے حکام کے مطابق مصر نے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ان مذاکرات میں مصری حکام کے علاوہ قطر اور ترکی کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
مزید پڑھیں: غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر عزالدین الحداد اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید، حماس نے تصدیق کردی
حماس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ثالثوں نے ایک نئی اور نظرِثانی شدہ تجویز پیش کی ہے، جسے حماس اور اسرائیل دونوں کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حماس کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ کی سربراہی میں وفد اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے نمائندے منگل سے مصر کے ساحلی شہر العلمین پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں بدھ کو باضابطہ بات چیت ہوگی۔
حماس کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نئی رکاوٹیں کھڑی نہ کرے اور مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ارادہ ظاہر کرے تو مذاکرات میں کسی اہم پیشرفت کا امکان موجود ہے۔
غزہ میں اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیلی فوج اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ اس مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا کی شقیں شامل تھیں، تاہم فریقین کے درمیان اختلافات کے باعث اس پر پیشرفت نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی حملہ، حماس کے اہم کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، 7 فلسطینی شہید
حماس کے ایک اور عہدیدار نے واضح کیا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ شرائط کے تحت ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کریں گی۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروہوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی سیاسی حل میں فلسطینی عوام کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مبصرین کے مطابق مصر میں ہونے والے یہ مذاکرات غزہ میں دیرپا جنگ بندی اور وسیع تر سیاسی سمجھوتے کی جانب ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی لچک اور ثالثوں کی سفارتی کوششوں پر ہوگا۔














