اسرائیل نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدین الحداد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حملے میں کم از کم 7 فلسطینی شہید اور 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ شہدا میں خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔
Despite a US-brokered ceasefire in Gaza, Israel carried out strikes on Gaza City targeting Hamas' most senior military leader, Izz al-Din al-Haddad, according to a joint statement from Prime Minister Benjamin Netanyahu and Defense Minister Israel Katz.
The Israeli strikes… pic.twitter.com/dJPdc40DNW
— CGTN (@CGTNOfficial) May 16, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں جمعے کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک اپارٹمنٹ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ فلسطینی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں 3 خواتین اور ایک بچے سمیت کم از کم 7 افراد جان سے گئے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ عزالدین الحداد حملے میں مارے گئے یا زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:حماس کا سیاسی وجود ختم کرنا مقصد نہیں، بورڈ آف پیس کے نمائندے کا بیان
حماس کی جانب سے ابھی تک عزالدین الحداد کی حالت یا مقام کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ وہ مئی 2025 میں محمد سنوار کی ہلاکت کے بعد غزہ میں حماس کے عسکری سربراہ بنے تھے۔
The Israeli Air Force conducted an airstrike targeting Izz al-Din al-Haddad, the top Hamas leader in the Gaza Strip, at a residential building in Gaza City's Rimal neighborhood.
According to Israeli security officials, there are initial indications he may have been killed,… pic.twitter.com/M0b7mPcx34
— Breaking News (@TheNewsTrending) May 15, 2026
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے، جن کے بعد غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا تھا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ بندی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے بعد کے غزہ منصوبے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔














