ایک تازہ بین الاقوامی سروے نے ظاہر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی رومانوی اور جذباتی تعلقات کے تصور پر دنیا بھر میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے، جہاں نوجوان نسل اسے انسانی خوشی اور جذباتی سہارا بڑھانے کا ذریعہ سمجھنے لگی ہے جبکہ بڑی عمر کے افراد اس بارے میں زیادہ محتاط اور شکوک کا شکار نظر آتے ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 50 فیصد نوجوان بالغوں کا خیال ہے کہ آنے والے دس برسوں میں اے آئی پر مبنی ’رومانوی یا جذباتی ساتھی‘ انسانی خوشی میں اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ یہ جذباتی سہارا فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ یہ رجحان کم ہوتا گیا اور 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح صرف ایک چوتھائی رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
یہ تحقیق تقریباً 10 ہزار افراد پر مشتمل تھی جو امریکا، جاپان، جرمنی، برطانیہ، انڈونیشیا اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھتے تھے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ نتائج تیزی سے بدلتے ہوئے اخلاقی اور سماجی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔
اے آئی ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیش رفت کے باعث لوگ چیٹ بوٹس کو نہ صرف گفتگو بلکہ جذباتی سہارا اور رومانوی تعلقات کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں جبکہ روبوٹکس کی ترقی کے ساتھ جدید جنسی گڑیوں کی تیاری بھی بڑھ رہی ہے جس سے انسانی تعلقات کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا بڑا انکشاف، ہیکرز کا اے آئی کے ذریعے ’خفیہ ترین‘ سائبر حملے کا منصوبہ ناکام
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ خطوں کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ انڈونیشیا میں 50 فیصد افراد نے کہا کہ اے آئی ساتھی انسانی تعلقات اور جنسی فلاح و بہبود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہ شرح 34 فیصد، جاپان میں 24 فیصد، امریکہ میں 20 فیصد، جرمنی میں 15 فیصد اور برطانیہ میں صرف 9 فیصد رہی۔
ماہرین کے مطابق مغربی ممالک میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلقات کو زیادہ تر ایک خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ بعض ایشیائی معاشرے اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟
مجموعی طور پر 17 فیصد شرکاء نے ’اے آئی انٹی میسی ڈول‘ کے استعمال پر غور کرنے کی خواہش ظاہر کی جبکہ 59 فیصد نے اس خیال کو مسترد کیا۔ تاہم نوجوان افراد میں اس رجحان کی شرح نسبتاً زیادہ پائی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کی بڑی آبادی اب بھی اس تصور کے بارے میں محتاط ہے لیکن نوجوان نسل مصنوعی ذہانت کی مدد سے تعلقات کی نئی تعریفیں متعین کر رہی ہے۔














