آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) اور صوبائی زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو حاصل مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ٹیکس نظام کو مزید وسیع کرنے اور رعایتوں میں کمی لانے کے لیے اہم فیصلوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور بعض دیگر مالیاتی رعایتیں 30 جون 2026 کو اپنی مدت پوری کر رہی ہیں، جن میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
اگر یہ فیصلہ نافذ ہو گیا تو یکم جولائی 2026 سے ان علاقوں کے رہائشی افراد، تاجروں اور کمپنیوں پر بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح عام ٹیکس قوانین لاگو ہوں گے۔
ٹیکس استثنیٰ کے خاتمے سے کیا تبدیلی آئے گی؟
ماہرین کے مطابق ٹیکس رعایتوں کے خاتمے کے بعد سابق قبائلی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان علاقوں میں کام کرنے والی صنعتوں اور تجارتی اداروں کو انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوگی، جس سے ان کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے۔
اسی طرح صنعتی خام مال کی درآمد پر سیلز ٹیکس عائد ہونے اور مقامی صنعتوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے سے پیداواری لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔
اس کا اثر مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی کاروبار کو مسابقتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کو کتنی آمدن متوقع ہے؟
ذرائع کے مطابق حکومت مختلف ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے خاتمے کے ذریعے آئندہ مالی سال میں تقریباً 40 ارب روپے اضافی محصولات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے بھی ٹیکس استثنیٰ اور مراعات کو محدود کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے اور حکومتی آمدن میں اضافہ ہو۔
سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز
اطلاعات کے مطابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر نافذ سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
اس کے علاوہ ان علاقوں میں درآمد کیے جانے والے صنعتی خام مال پر بھی 12 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس اقدام سے حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوگا، تاہم کاروباری برادری اور صنعتکاروں کے لیے مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں صنعتیں
ابھی ترقی کے مرحلے میں ہیں۔
دیگر ٹیکس رعایتیں بھی ختم ہونے کا امکان
ذرائع کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر دی جانے والی سیلز ٹیکس چھوٹ بھی یکم جولائی 2026 سے ختم ہونے کا امکان ہے۔
اسی طرح مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر دی جانے والی رعایتوں میں مزید توسیع کا امکان بھی کم دکھائی دیتا ہے۔
البتہ سابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ بدستور 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا، جبکہ مقامی سطح پر تیار کردہ سائلوز پر دی گئی ٹیکس چھوٹ بھی اسی تاریخ کو
ختم ہو جائے گی۔
عوامی اور کاروباری حلقوں کا ردِعمل
تاجروں اور صنعتکاروں کا مؤقف ہے کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس رعایتوں کا تسلسل ضروری ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مالی چیلنجز اور محصولات بڑھانے کی ضرورت کے پیشِ نظر ٹیکس استثنیٰ کا ازسرِنو جائزہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ 27-2026 کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا، تاہم اگر مجوزہ اقدامات نافذ ہو گئے تو سابق قبائلی علاقوں کے کاروباری، صنعتی اور تجارتی شعبوں میں ایک بڑی تبدیلی
رونما ہونے کا امکان ہے۔













