ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی آبی خودمختاری، زرعی پیداوار، توانائی کی ضروریات اور معاشی استحکام کا بنیادی ستون ہے، لہٰذا اس کی اہمیت کو کم کرنا یا اسے متنازع بنانے کی کوئی بھی کوشش قومی مفادات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ طاس معاہدہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ ایسا قانونی اور بین الاقوامی فریم ورک ہے جو پاکستان کو دریاؤں کے پانی پر بالادستی کے یکطرفہ استعمال سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بغیر پاکستان کو اپنے آبی وسائل کے حوالے سے مستقل غیر یقینی صورتحال اور تزویراتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ جدید دور میں آبی تنازعات صرف دریاؤں کا رخ موڑنے تک محدود نہیں رہے بلکہ پانی کے بہاؤ کے وقت، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کے ذریعے بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم حفاظتی ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ پانی کو کسی ایک فریق کی طاقت کے آلے کے بجائے بین الاقوامی ذمہ داری اور ضابطے کے تحت لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے اس معاہدے کا تحفظ قومی سلامتی کے اہم تقاضوں میں شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، بجلی کی پیداوار، معیشت اور سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔ ملک کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے، نہری نظام، آبی ذخائر اور پن بجلی منصوبے اسی نظام سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے دور میں سرحد پار آبی معاہدوں کا تحفظ صرف سفارتی ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے لیے پانی کا تحفظ درحقیقت معاشی اور تزویراتی استحکام کے تحفظ کے مترادف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم صرف جغرافیہ ملک کے آبی مستقبل کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قانونی تحفظ، معاہدوں کی پابندی اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستانی مؤقف کی تائید، بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، وزیراعظم
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا دراصل جدید طاقت کی نوعیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ موجودہ دور میں پانی پر کنٹرول بتدریج معاشی، سیاسی اور تزویراتی اثر و رسوخ کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ پاکستان کے ہر نہری نظام، ہر فصل، ہر آبی ذخیرے اور ہر میگاواٹ بجلی کے پیچھے دریائے سندھ کا نظام کارفرما ہے۔ اسی لیے سندھ طاس معاہدے کا تحفظ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔














