منشیات کیس: سپریم کورٹ نے نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی، اے این ایف کے طرزِ تفتیش پر سخت سوالات

منگل 2 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کر لی۔ سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل کی جانب سے پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج پر عدالت نے سنجیدہ سوالات اٹھائے اور فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دیتے ہوئے اے این ایف کے مؤقف پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے اے این ایف کے چھاپے کی سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں پیش کی۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اے این ایف اہلکار منشیات ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے اور بعد ازاں جھوٹا مقدمہ قائم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے اے این ایف کا ملک بھر میں کریک ڈاؤن، 11 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

احسن بھون نے عدالت کو بتایا کہ فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے، تاہم متعلقہ اہلکار نے ویڈیو میں اپنی موجودگی سے انکار کر دیا۔

فوٹیج دیکھنے کے بعد جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار ویڈیو میں تشدد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پر اے این ایف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فوٹیج کسی دوسرے گھر میں کیے گئے چھاپے کی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے بھی اے این ایف کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر اے این ایف کے 10 اہلکار موقع پر موجود تھے تو 2 لڑکیاں کیسے فرار ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلکار لڑکیوں کو تو نہ پکڑ سکے لیکن گاڑی قبضے میں لے لی۔

ملزمہ کے وکیل نے مزید دعویٰ کیا کہ گاڑی کی برآمدگی سے متعلق سرکاری ریکارڈ میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔

عدالت میں دلائل کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اے این ایف کے بیانات کی بنیاد پر لوگوں کو سزائے موت اور عمر قید تک سناتی ہیں، اس لیے ادارے کو انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا خوف کریں، عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے بھی اے این ایف کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض مقدمات میں ملزمان ادارے کی تحویل میں ہوتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم کی ہتھکڑیوں سمیت تصویر موجود تھی لیکن اگلے روز اس کی موت کی خبر آ گئی۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایک اے این ایف اہلکار سے غیر رسمی انداز میں استفسار کیا کہ آیا اس نے کبھی چرس پی ہے؟ اہلکار کے نفی میں جواب دینے پر جسٹس کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ’شاید اسی لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے‘، جس پر کمرۂ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک تجزیہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی، جبکہ کیس کی مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’فسادی جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں‘، وزیراعظم آزاد کشمیر نے راولاکوٹ احتجاج میں شریک اسلحہ برداروں کی ویڈیو شیئر کردی

چھوٹے دکانداروں کے لیے ایف بی آر کی نئی اسکیم، ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس پر رضاکارانہ رجسٹریشن

چین ’مصنوعی سورج‘ بنانے کے مزید قریب، 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ

راولاکوٹ میں ملک دشمنی کا اظہار کرنے والوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی