ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران گرم موسمی رجحان ایل نینو کی تشکیل کا 80 فیصد امکان ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید
موسمی واقعات، گرمی کی لہروں، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے کے مطابق استوائی بحرالکاہل کے گرم سمندری پانیوں کی وجہ سے ایل نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے، جو عالمی سطح پر درجہ حرارت، بارشوں
اور ہواؤں کے نظام پر نمایاں اثرات مرتب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کی وسط 2026 میں فعال ہونے کا امکان، اقوامِ متحدہ کا انتباہ
جنیوا میں قائم ڈبلیو ایم او نے اپنی تازہ پیش گوئی میں بتایا کہ عالمی موسمیاتی ماڈلز جون تا اگست کے دوران ایل نینو کے مکمل طور پر قائم ہونے کے 80 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ
نومبر تک اس کے نمودار ہونے کا امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ بیشتر ماڈلز کے مطابق یہ کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جس کے دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کے سطحی پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔
🆕 WMO confirms: El Niño conditions are developing and are set to influence global temperature and rainfall patterns around the world in the months ahead. Most forecast models suggest it will be at least moderate – possibly strong.
Be prepared. More info➡️ https://t.co/htyps0XfsE pic.twitter.com/0dbWunyqyU— World Meteorological Organization (@WMO) June 2, 2026
اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں بارشوں، فضائی دباؤ اور ہواؤں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہ رجحان عموماً ہر 2 سے 7 سال بعد ظاہر ہوتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔
ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا کہ دنیا کو ایل نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، شدید بارشوں اور زمینی و سمندری گرمی کی لہروں
کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق حتیٰ کہ درمیانی شدت کا ایل نینو بھی موسمی اور آب و ہوا سے متعلق انتہاؤں کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
ادارے کے مطابق 2023 میں ریکارڈ پر دوسرا گرم ترین سال اور 2024 میں تاریخ کا گرم ترین سال بننے میں بھی گزشتہ ایل نینو نے اہم کردار ادا کیا تھا، جب عالمی درجہ حرارت صنعتی دور
سے پہلے کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

گوتریس کی موسمیاتی انتباہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایل نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور دنیا کو اسے ایک فوری موسمیاتی وارننگ کے طور پر لینا
چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایل نینو پہلے سے گرم ہوتی دنیا میں مزید شدت پیدا کرے گا، اس کے اثرات زیادہ شدید، زیادہ وسیع اور سرحدوں سے ماورا تباہ کن رفتار کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔
ان کے مطابق اس بحران کا مؤثر جواب فوسل فیول پر انحصار ختم کرنا، قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی، کمزور آبادیوں کا تحفظ اور ابتدائی انتباہی نظاموں کی فراہمی ہے۔
معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی
ڈبلیو ایم او نے بتایا کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے تقریباً تمام خطوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت غالب رہنے کی توقع ہے۔ اس سے بعض علاقوں میں متعدد موسمی خطرات ایک
ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ کم بارش والے علاقوں میں خشک سالی تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے۔
علاقائی موسمیاتی مراکز نے پیش گوئی کی ہے کہ شمالی مشرقی افریقہ کے اہم بارشوں کے موسم، جنوبی ایشیا کے مون سون اور وسطی امریکا کے بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہ
سکتی ہیں، جبکہ گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔
There is an 80% chance of the warming El Niño phenomenon developing between June and August, increasing the risk of extreme weather events, the World Meteorological Organization has said https://t.co/g8KcANWdbv
— RTÉ News (@rtenews) June 2, 2026
رپورٹ کے مطابق شمالی نصف کرے کے موسمِ گرما میں ایل نینو سے وابستہ گرم سمندری پانی وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندری طوفانوں کو طاقتور بنا سکتے ہیں، جبکہ بحرِ اوقیانوس
میں ان کی تشکیل کو کمزور کر سکتے ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کا کہنا ہے کہ پیشگی انتباہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو زراعت، آبی وسائل، توانائی اور صحت جیسے موسمیاتی حساس شعبوں میں بروقت تیاری کا موقع فراہم کرے گا۔














