دنیا بھر میں خوراک کی صورتحال کے حوالے سے ایک اور پریشان کن خبر سامنے آئی ہے جہاں ایران جنگ اور موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کے دوہرے وار نے چاول کی عالمی سپلائی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایشیا بھر میں کھاد کی قلت اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کسانوں نے چاول کی کاشت کے رقبے میں کمی کردی ہے، جس کے باعث رواں برس عالمی منڈی میں چاول کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان چاول برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے سے ایندھن اور کھاد کی نقل و حمل متاثر ہونے سے تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے بڑے برآمد کنندگان اور فلپائن و انڈونیشیا جیسے درآمد کنندگان شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کی صورتحال جلد ختم نہ ہوئی تو سال کے دوسرے حصے میں عالمی رسد کی صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی رجحان ‘ایل نینو’ کے باعث ایشیا میں شدید گرمی اور خشک سالی کے سائے منڈلا رہے ہیں، جو چاول کی فصل کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی نئی دھمکی، بھارت سے چاول اور کینیڈا سے کھاد پر بھاری محصولات کا عندیہ
اس وقت تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے ممالک میں کسان پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے کھاد کا استعمال آدھا کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، جبکہ انڈونیشیا میں چاول کی کاشت کا رقبہ پہلے ہی 10 فیصد تک سکڑ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول کی رسد میں معمولی سی رکاوٹ بھی ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک میں قیمتوں میں اضافے اور سماجی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ 2008 اور 2022 کے بحرانوں کے دوران دیکھا گیا تھا۔












