فیفا اور منتظمین پر تاریخی عوامی آرٹ تباہ کرنے کا الزام، 25 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی مصور رابرٹ وائلینڈ نے فیفا، مقامی ورلڈ کپ منتظمین، عمارت کے مالک اور انتظامی کمپنی کے خلاف 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

وائلینڈ کا الزام ہے کہ ڈیلاس میں واقع ان کی مشہور دیوار نگاری کو 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کی تشہیری مہم کے لیے غیرقانونی طور پر مٹا دیا گیا، جس سے شہر کی ایک اہم ثقافتی علامت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

پیر کے روز ڈیلاس کی وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں وائلینڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے فن پارے پر ان کی اجازت یا پیشگی اطلاع کے بغیر رنگ پھیر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دورانِ پرواز ہنگامہ، مسافر نے فلائٹ اٹینڈنٹ کو کاٹ لیا

ان کے مطابق یہ اقدام امریکی قانون ’ویژول آرٹسٹس رائٹس ایکٹ 1990‘ کی خلاف ورزی ہے، جو عوامی مقامات پر نصب ایسے فن پاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جنہیں نمایاں فنی یا ثقافتی اہمیت حاصل ہو۔

وائلینڈ، جو دنیا بھر میں سمندری حیات پر مبنی اپنے بڑے دیوار گیر فن پاروں کے لیے مشہور ہیں، نے بتایا کہ ’وہیلنگ وال 82‘ کے نام سے معروف یہ میورل 1999 میں مکمل کیا گیا تھا۔

تقریباً 17 ہزار مربع فٹ رقبے پر پھیلا یہ فن پارہ ڈیلاس کے مرکزی علاقے میں ایک عمارت کی 2 دیواروں پر بنایا گیا تھا، جس میں زندگی کے حقیقی حجم کی وہیل مچھلیاں دکھائی گئی تھیں۔

یہ میورل نہ صرف شہر کی شناخت بن چکا تھا بلکہ سمندری حیات کے تحفظ کا ایک مضبوط پیغام بھی دیتا تھا۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کی تشہیر کے لیے اس تاریخی فن پارے کو جلد بازی میں ختم کیا گیا۔

وائلینڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ منتظمین نئے عوامی فن پارے کی بات کر رہے ہیں، تاہم ایک تاریخی اور مقبول تخلیق کو مٹانا ثقافتی ورثے کے نقصان کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں: میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دوسری جانب مقامی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مقام پر ایک نیا فن پارہ تخلیق کیا جائے گا جو ورلڈ کپ 2026 کے جذبے، عالمی ہم آہنگی اور اتحاد کی نمائندگی کرے گا۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ وائلینڈ کے میورل کا ایک حصہ محفوظ رکھا جائے گا، فیفا نے اس تنازع سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں اس کا کوئی براہِ راست کردار نہیں۔

ادھر عمارت کی انتظامی کمپنی سلیٹ ایسیٹ مینجمنٹ کا دعویٰ ہے کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ مصور کو منصوبے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے پر مقامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے میورل کے تحفظ اور عوامی فن پاروں کی حفاظت کے لیے شروع کی گئی ایک آن لائن درخواست پر اب تک 2,600 سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت نے وائلینڈ کے مؤقف کو درست قرار دیا تو یہ فیصلہ امریکا میں عوامی فن پاروں کے تحفظ سے متعلق ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، اہم قومی و علاقائی امور زیر بحث

پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات بے بنیاد، بجٹ بغیر آئینی ترمیم کے منظور ہوگا، عبدالقادر پٹیل

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ