پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرحوم رہنما، سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر مشاہد اللہ خان کی صاحبزادی لامعہ مشاہداللہ نے کہا ہے کہ سیاست ہمارے خون میں شامل ہے، عوامی خدمت ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہے گی۔
لامعہ مشاہد اللہ نے وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کی شخصیت، سیاسی زندگی سمیت اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
نوجوانوں کی ترقی کے لیے کام کررہی ہوں
انہوں نے کہاکہ وہ اس وقت نوجوانوں کی ترقی کے شعبے میں کام کررہی ہیں اور ٹیکنالوجی و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کو یکجا کرکے نوجوانوں کے مسائل کے جدید اور مستقبل سے ہم آہنگ حل تلاش کر رہی ہیں۔
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ ان کا موجودہ کام نوجوانوں کی ترقی سے متعلق ہے اور وہ ایسے منصوبوں پر کام کررہی ہیں جن کے ذریعے نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ انڈیکس گزشتہ 25 برسوں میں صرف 0.4 فیصد بڑھا ہے، حالانکہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی آبادی اور نوجوان نسل ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ مسئلہ درست سمت اور مواقع سے جوڑنے کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں پر تو کام ہوا، لیکن انسانی وسائل کی تربیت، مہارتوں میں اضافہ اور عالمی سطح پر ان کی مارکیٹنگ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد غیر ہنر مند یا کم ہنر مند مزدوروں پر مشتمل ہوتی ہے۔
مشاہد اللہ خان کی یادیں آج بھی زندگی کا حصہ ہیں
اپنے والد مشاہد اللہ خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لامعہ مشاہد اللہ جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ والد کے انتقال کے بعد ان کا رشتہ مزید مضبوط محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب والدین زندگی میں موجود ہوتے ہیں تو انسان ان کی ہر بات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتا، لیکن ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی ہر نصیحت زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
لامعہ مشاہد کے مطابق جب بھی انہیں کسی معاملے میں رہنمائی درکار ہوتی ہے تو وہ سوچتی ہیں کہ اس صورتحال میں ان کے والد کیا مشورہ دیتے، اور انہیں جواب مل جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ گھر میں سب سے چھوٹی تھیں اور اپنے بہن بھائیوں سے قریباً 14 سال چھوٹی ہونے کی وجہ سے مشاہد اللہ خان کی خصوصی توجہ اور شفقت انہیں حاصل رہی۔
مشاہد اللہ خان ایک سیاستدان سے بڑھ کر ایک عظیم باپ تھے
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ مشاہد اللہ خان نہ صرف ایک بڑے سیاستدان تھے بلکہ ایک غیر معمولی والد بھی تھے۔
ان کے مطابق مشاہد اللہ خان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بچوں کی بات کو بھی مکمل سنجیدگی سے سنتے تھے۔ وہ کبھی یہ نہیں کہتے تھے کہ چونکہ بچہ بات کررہا ہے اس لیے اس کی رائے اہم نہیں، بلکہ پوری توجہ سے سنتے اور بعض اوقات اپنی رائے کے بجائے بچے کی رائے کو بہتر قرار دیتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان جیسے معاشرے میں یہ رویہ کم دیکھنے کو ملتا ہے، اسی لیے ان کے والد نے انہیں اعتماد، سوچنے کی صلاحیت اور اپنی بات پر یقین رکھنا سکھایا۔
والد کو آخری ایام میں بھی اپنی نہیں، بچوں کی فکر تھی
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ زندگی کے آخری ایام میں بھی ان کے والد کو اپنی بیماری یا تکلیف کی فکر نہیں تھی بلکہ انہیں صرف یہ فکر تھی کہ ان کے بعد ان کے بچے کیسے زندگی گزاریں گے۔
انہوں نے کہاکہ مشاہد اللہ خان آخری دنوں میں مسلسل انہیں حوصلہ دیتے رہتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ زندگی میں بہت آگے جائیں گی اور ہر مشکل کا مقابلہ کر سکیں گی۔
ان کے مطابق ان کے والد روحانیت پر بھی گہرا یقین رکھتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ جسم ختم ہو سکتا ہے لیکن انسان کی اصل پہچان اس کی روح ہوتی ہے۔
نواز شریف کا مشاہد اللہ خان کے لیے جذباتی پیغام
لامعہ مشاہد اللہ نے انکشاف کیاکہ والد کے انتقال کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ان سے رابطہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے کہا تھا کہ انہیں بھی مشاہد اللہ خان کی بہت یاد آتی ہے اور وہ ایسے انسان تھے جن میں وفاداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
لامعہ مشاہد کے مطابق نواز شریف نے یہ بھی کہاکہ وہ ہمیشہ مشاہد اللہ خان کے وفادار رہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی خاص بات یہ ہے کہ وہ سیاسی تعلقات کو خاندانی رشتوں میں بدل دیتے ہیں اور آج بھی ان کے خاندان کے افراد کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں۔
مشاہد اللہ خان کی تقاریر آج بھی یاد کی جاتی ہیں
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ ان کے والد کی پارلیمانی تقاریر آج بھی لوگوں میں مقبول ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مشاہد اللہ خان کا یہ قول آج بھی لوگوں کو یاد ہے کہ انسان کو ایسی زندگی گزارنی چاہیے کہ مرنے کے بعد بھی اس کا نام زندہ رہے۔
انہوں نے کہاکہ 5 سال گزرنے کے باوجود جب لوگ جانتے ہیں کہ وہ مشاہد اللہ خان کی بیٹی ہیں تو ان کے والد کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہیں۔
مریم نواز سے ملاقات اور نوجوانوں کے لیے منصوبے
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ شادی کے اگلے ہی دن انہیں ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا اور انہیں اگلی صبح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ ملاقات کے لیے بلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران مریم نواز نے ان کے کام میں دلچسپی لی اور نوجوانوں کی ترقی سے متعلق منصوبوں کو پورے پنجاب میں وسعت دینے کی حوصلہ افزائی کی۔
لامعہ مشاہد کے مطابق مریم نواز کا ورک ایتھک انتہائی مضبوط ہے اور وہ منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور انداز میں کام کرتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایک خاتون رہنما کے طور پر مریم نواز نے پاکستان میں کام کے معیار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے جس پر انہیں فخر محسوس ہوتا ہے۔
اے آئی پر مبنی پلیٹ فارم متعارف کرانے کا اعلان
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ انہوں نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی آن لائن پلیٹ فارم تیار کیا ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کی کیریئر گروتھ اور مہارتوں میں اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوانوں کو مفت سبسکرپشنز فراہم کی جائیں گی تاکہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو کم کیا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
سیاست ہمارے خون میں شامل ہے
سیاست میں آنے کے سوال پر لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ سیاست ان کے خون میں شامل ہے کیونکہ انہوں نے بچپن سے اپنے والد کو عوامی خدمت کرتے دیکھا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ پہلے ویلتھ مینجمنٹ کے شعبے سے وابستہ تھیں لیکن بعد ازاں عوامی خدمت کے جذبے کے تحت نوجوانوں کی ترقی کے میدان میں آگئیں۔
ان کے مطابق عوامی خدمت ہمیشہ ان کی زندگی کا حصہ رہے گی اور مستقبل میں سیاست میں آنے کا امکان بھی موجود ہے۔
سوشل میڈیا ٹرولنگ پر مشاہد اللہ خان کا مؤقف
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں کی جانب سے مشاہد اللہ خان کو نشانہ بنانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں لامعہ مشاہد اللہ نے کہا کہ بچپن میں ایسی باتیں تکلیف دیتی تھیں لیکن ان کے والد ان معاملات کو کبھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ مشاہد اللہ خان انہیں ہمیشہ سمجھاتے تھے کہ جب انسان سچ بولتا ہے اور بڑا کام کرتا ہے تو تنقید اور مخالفت بھی اس کا حصہ بن جاتی ہے، اس لیے ایسے لوگوں کی باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔
مشاہد اللہ خان نے کوئی جائیداد نہیں بنائی
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ ان کے والد کے پاس اپنا ذاتی گھر بھی نہیں تھا اور خاندان نے ہمیشہ کرائے کے گھر میں زندگی گزاری۔
انہوں نے کہاکہ مشاہد اللہ خان نے نہ زمینیں بنائیں اور نہ ہی جائیدادیں جمع کیں بلکہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا تھا وہ اپنے اہل خانہ پر خرچ کر دیتے تھے۔
ان کے مطابق اس طرز زندگی نے خاندان کو سادگی اور محدود وسائل میں زندگی گزارنے کا ہنر سکھایا۔
گرین پاسپورٹ کے وقار میں اضافہ ہوا ہے
لامعہ مشاہد اللہ نے کہاکہ بیرون ملک سفر کے دوران انہیں محسوس ہوتا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانیوں کے بارے میں عالمی سطح پر مثبت تاثر میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی کامیابی اور مسلح افواج کی کارکردگی کے بعد دنیا میں پاکستان کے لیے احترام اور مثبت جذبات بڑھے ہیں۔
نوجوان خواتین کے لیے پیغام
لامعہ مشاہد اللہ نے نوجوان لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ انہیں ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، اپنے اوپر یقین رکھنا چاہیے اور ہر کام بہادری کے ساتھ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ انسان کو کبھی خود کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی بہترین تخلیق قرار دیا ہے، اس لیے مایوسی یا احساسِ کمتری کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔













