وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ کو بامقصد بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے اور 10 جون کو بامقصد بجٹ پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات انتہائی مثبت ماحول میں ہوئی۔ بجٹ سے متعلق مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس ہفتے کے اختتام پر مزید ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت بجٹ سازی کے عمل میں تمام اتحادی جماعتوں، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہی ہے تاکہ معاشی فیصلوں پر وسیع اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عوام پر کسی نئے ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ محصولات میں اضافے کے لیے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، انفورسمنٹ کو مضبوط کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم بجٹ کی تیاری کے دوران مختلف تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایسا بجٹ پیش کیا جا سکے جو ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہو۔
مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
واضح رہے کہ قبل ازیں 5 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب تاریخ تبدیل کردی گئی ہے۔














