بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بھارت میں طلبا کا احتجاج محض ایک مقامی تحریک نہیں رہا بلکہ یہ ہندتوا فاشسٹ سوچ اور ایلیٹ کیپچر (مالدار طبقے کی اجارہ داری) کے خلاف ایک مکمل بغاوت بن چکا ہے، جس کا ہم سب کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔

وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں نوجوان نسل کی جانب سے جو بغاوت اور تبدیلی آئی، اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں: ایک ان کے اپنے نظام کے خلاف اور دوسرا بھارت کی بالادستی کے خلاف۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے مظہر کو دیکھیں تو اس کی سوشل میڈیا فالوؤنگ 23 ملین تک پہنچ چکی ہے، جو کہ حکمران جماعت ‘بی جے پی’ سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ تحریک پیپر لیکس اور وزیر تعلیم کے خلاف شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ صرف طلبا تحریک نہیں رہی بلکہ سیاسی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں راہول گاندھی کی صورت میں اپوزیشن بھی شامل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑی اہم پیش رفت یہ ہے کہ فری ٹریڈ ڈیل کے خلاف کسان بھی سڑکوں پر آ گئے ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین نے بھارت میں پیدا ہونے والی اس غیر معمولی تحریک کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ بھارتی چیف جسٹس نے حقارت اور تکبر کے ساتھ ایک ریمارک دیا تھا کہ ’آپ کیا یہ کاکروچوں کی طرح سے مانگتے رہتے ہیں‘، جس کے ردعمل میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا قیام عمل میں آیا۔

مزید پڑھیں:بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج

اس تکبر اور رعونت کے خلاف بغاوت ہوئی ہے اور بنیادی طور پر یہ بالائی فارغ البال طبقے کی حاکمیت اور ایلیٹ کیپچر کے خلاف عوام کا غصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اس وقت بے روزگاری کی شرح 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اترپردیش، پنجاب، ہریانہ اور گجرات جیسی نام نہاد ترقی یافتہ ریاستوں کے ساڑھے 7 لاکھ لوگ اس وقت امریکا میں غیر قانونی مہاجرین بن چکے ہیں۔

مودی کی اقتصادی پالیسیوں کا فائدہ صرف ان کے قریبی امبانی یا اڈانی قسم کے لوگوں کو ہو رہا ہے، جبکہ باقی عوام پس رہے ہیں، جنہیں محض سبسڈی دی جاتی ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس نے بھارت جیسے عظیم اور کثیر المذہبی معاشرے میں ہندتوا فاشسٹ سوچ کے تحت جو کنٹرول قائم کیا تھا اور لوگوں کی آزادیاں سلب کی تھیں، اب اس کے خلاف بغاوت ہو چکی ہے۔ مودی کا وجود بھارت اور پورے خطے کے لیے انتہائی منفی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا

انہوں نے واضح کیا کہ ’میں بی جے پی کو پاپولسٹ (مقبولیت پسند) نہیں بلکہ بی جے پی اور اصل حکمران جماعت آر ایس ایس کو فاشسٹ کہتا ہوں۔‘

’پاپولزم میں تو کوئی مثبت چیز یا عوامی رائے ہو سکتی ہے، لیکن یہ فاشسٹ ہیں جو معاشرے میں تقسیم، تضاد، تصادم اور تکرار کی سیاست کر رہے ہیں۔‘

اپنے انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ یہ تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور شاید اس کے پاس فی الوقت اتنی طاقت نہ ہو، لیکن یہ آگے چل کر کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

مودی کا جو یار ہے غدار ہے، پشاور کے شہریوں کا نورین نیازی کے بیان پر ردعمل

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے