آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے سمیت دیگر معاملات پر غور کے لیے آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ایک سنجیدہ، جمہوری اور ذمہ دارانہ اقدام تھا، جس کا مقصد پیچیدہ قانونی و سیاسی مسائل کو محاذ آرائی کے بجائے اجتماعی مشاورت کے ذریعے حل کرنا تھا، لیکن ایکشن کمیٹی نے اے پی سی کا بائیکاٹ کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ دراصل وہ ریاست میں افراتفری چاہتے ہیں۔
کانفرنس تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں اور متعلقہ فریقوں کو ایک مشترکہ فورم پر لانے کی کوشش تھی تاکہ 12 مہاجر نشستوں سمیت اہم معاملات پر بامعنی گفتگو ہو سکے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کا اے پی سی میں شرکت سے انکار، اصل عزائم کھل کر سامنے آگئے
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس دعوت کو مسترد کرنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مذاکرات کے بجائے دباؤ، ہڑتال اور اشتعال انگیزی کو ترجیح دے رہی ہے۔
جب مسئلے کے حل کے لیے دروازہ کھولا گیا تو ذمہ داری کا تقاضا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات کی میز پر آتی، اپنا مؤقف پیش کرتی اور عوامی مفاد میں راستہ نکالنے کی کوشش کرتی۔
اگر احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کشیدگی کے نتیجے میں عام شہری، مزدور، تاجر، طلبہ اور مریض متاثر ہوتے ہیں تو اس کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر عائد ہوگی، کیوں کہ عوام کو ریلیف مذاکرات سے ملتا ہے، سڑکوں کی بندش اور ہڑتالوں سے نہیں۔
12 مہاجر نشستوں سمیت پیچیدہ معاملات نعروں، ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش سے حل نہیں ہوتے بلکہ ایسے مسائل کا حل آئینی، قانونی اور سیاسی مکالمے میں مضمر ہے۔
ریاست نے مکالمے کا دروازہ کھولا لیکن عوامی ایکشن کمیٹی نے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کی ذمہ داری ان عناصر پر ہوگی جو مذاکرات کے تمام راستے بند کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مسائل حل ہونے کے باوجود تصادم کا راستہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتشار کی راہ پر گامزن
عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی مکالمہ، مشاورت اور جمہوری طریقہ کار ہی مؤثر راستہ ہے، جبکہ عوامی قیادت کا فرض مسائل کو حل کرنا ہے نہ کہ عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا۔














