آزاد کشمیر: اے پی سی میں عدم شرکت سے ایکشن کمیٹی کے ریاست میں افراتفری پھیلانے کے عزائم واضح ہوگئے

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے سمیت دیگر معاملات پر غور کے لیے آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ایک سنجیدہ، جمہوری اور ذمہ دارانہ اقدام تھا، جس کا مقصد پیچیدہ قانونی و سیاسی مسائل کو محاذ آرائی کے بجائے اجتماعی مشاورت کے ذریعے حل کرنا تھا، لیکن ایکشن کمیٹی نے اے پی سی کا بائیکاٹ کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ دراصل وہ ریاست میں افراتفری چاہتے ہیں۔

کانفرنس تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں اور متعلقہ فریقوں کو ایک مشترکہ فورم پر لانے کی کوشش تھی تاکہ 12 مہاجر نشستوں سمیت اہم معاملات پر بامعنی گفتگو ہو سکے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کا اے پی سی میں شرکت سے انکار، اصل عزائم کھل کر سامنے آگئے

عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس دعوت کو مسترد کرنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مذاکرات کے بجائے دباؤ، ہڑتال اور اشتعال انگیزی کو ترجیح دے رہی ہے۔

جب مسئلے کے حل کے لیے دروازہ کھولا گیا تو ذمہ داری کا تقاضا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات کی میز پر آتی، اپنا مؤقف پیش کرتی اور عوامی مفاد میں راستہ نکالنے کی کوشش کرتی۔

اگر احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کشیدگی کے نتیجے میں عام شہری، مزدور، تاجر، طلبہ اور مریض متاثر ہوتے ہیں تو اس کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر عائد ہوگی، کیوں کہ عوام کو ریلیف مذاکرات سے ملتا ہے، سڑکوں کی بندش اور ہڑتالوں سے نہیں۔

12 مہاجر نشستوں سمیت پیچیدہ معاملات نعروں، ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش سے حل نہیں ہوتے بلکہ ایسے مسائل کا حل آئینی، قانونی اور سیاسی مکالمے میں مضمر ہے۔

ریاست نے مکالمے کا دروازہ کھولا لیکن عوامی ایکشن کمیٹی نے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کی ذمہ داری ان عناصر پر ہوگی جو مذاکرات کے تمام راستے بند کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مسائل حل ہونے کے باوجود تصادم کا راستہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتشار کی راہ پر گامزن

عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی مکالمہ، مشاورت اور جمہوری طریقہ کار ہی مؤثر راستہ ہے، جبکہ عوامی قیادت کا فرض مسائل کو حل کرنا ہے نہ کہ عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب