آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثوں پر پیشرفت، امریکا ایران سمجھوتے کی راہ ہموار

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب فریقین ایک عبوری معاہدے کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متوقع معاہدے کے نتیجے میں ایران شدید معاشی اور عسکری نقصان کے باوجود اپنی ریاستی ساخت اور علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کو دھچکا،امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی

معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر عائد اپنی عملی رکاوٹیں ختم کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں اسے مالی ریلیف، منجمد اثاثوں تک رسائی اور پابندیوں میں محدود نرمی مل سکتی ہے۔

اس پیش رفت کا مقصد عالمی تیل منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا، مالیاتی دباؤ کم کرنا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی طور پر ایک قابل قبول راستہ فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

سفارت کاروں اور علاقائی ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی یا ابتدائی معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، تاہم اس سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجود بنیادی اختلافات ختم ہونے کا امکان نہیں۔

ایران اب بھی یورینیم افزودگی جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ امریکا سیکیورٹی ضمانتیں دینے سے گریزاں ہے اور اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ تصور کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیشرفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اس معاہدے کو وقت حاصل کرنے، معاشی مشکلات کم کرنے اور داخلی دباؤ پر قابو پانے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی پیش رفت کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی راہ میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایران تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی فوری رہائی کو بنیادی شرط قرار دے رہا ہے۔

جبکہ وہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کو بھی معاہدے سے جوڑنا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی و صنعتی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم اس کے باوجود پاسدارانِ انقلاب پہلے سے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے بات چیت کا خواہشمند ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ عبوری معاہدہ جنگ میں وقتی وقفہ تو لا سکتا ہے، لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں پر محیط بنیادی تنازع اور عدم اعتماد بدستور برقرار رہے گا۔

سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس کے بقول، اسرائیل اور ایران کے لیے جنگ کا یہ مرحلہ شاید ختم ہو جائے، لیکن اصل تنازع ختم نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp