آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سال 2023 سے اب تک سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کی 19 نئی دریافتیں کی ہیں، جس سے ملکی توانائی کے تحفظ کو بڑی تقویت ملی ہے اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر روزانہ 17,123 بیرل تیل اور 151 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس حاصل ہونے کی صلاحیت ہے۔ ان مقامی ذخائر کے استعمال سے ملکی خزانے کو امپورٹ سبسٹٹیوشن یعنی درآمدی متبادل کی مد میں روزانہ تقریباً 1.2 بلین روپے کی خطیر بچت حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: او جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ میں اہم ہائیڈروکاربن ذخائر دریافت کرلیے
دستاویزات کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے اپنی تلاش کی سرگرمیوں کو 3 مختلف مراحل میں تیز کیا، جس کے تحت مالی سال 2023-24 میں 5 دریافتیں کی گئیں جن سے روزانہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس حاصل ہوئی، جس سے روزانہ 283.48 ملین روپے کی بچت ہوئی۔
اس کے بعد مالی سال 2024-25 میں مزید 5 دریافتیں ریکارڈ کی گئیں جنہوں نے ملکی پیداوار میں 947 بیرل تیل اور 34.49 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کا اضافہ کیا اور درآمدی اخراجات میں روزانہ 279.70 ملین روپے کی کمی آئی۔
یہ بھی پڑھیں:او جی ڈی سی ایل نے غیر روایتی گیس کے منصوبوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا
سب سے زیادہ تیزی رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے 9 مہینوں میں دیکھی گئی جہاں کمپنی نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 نئی دریافتیں کیں جن کی پیداواری صلاحیت 15,695 بیرل تیل اور 86.95 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس ہے، اور یہ دریافتیں تنہا روزانہ 633.45 ملین روپے کے درآمدی اخراجات بچانے کا باعث بن رہی ہیں۔
ان تمام دریافتوں میں سب سے اہم کامیابی بارگزئی X-01 کنویں سے حاصل ہوئی ہے جہاں ملٹی زون ہائیڈروکاربن کے بڑے ذخائر ملے ہیں۔ اس کنویں کی آزمائشی پیداواری صلاحیت تقریباً 15,005 بیرل تیل اور 45.36 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس روزانہ ہے، جو حالیہ برسوں میں او جی ڈی سی ایل کے وسائل میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: او جی ڈی سی ایل نے سندھ میں گیس کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے
ان نئی دریافتوں کی بدولت کمپنی نے اپنے ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو (آر آر آر) میں بھی شاندار بہتری دکھائی ہے، جو مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 167 فیصد ہو گیا اور رواں سال کے پہلے 9 مہینوں میں 153 فیصد پر برقرار رہا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے ذخائر کی مدت 14 سال سے بڑھ کر 17 سال ہوچکی ہے۔
اس کے ساتھ ہی کمپنی نے پیداوار بڑھانے کے لیے 34 نئے کنویں اور فیلڈز بھی سسٹم میں شامل کیے ہیں جن میں سے صرف رواں مالی سال کے دوران اپریل تک 11 کنویں آن لائن لائے جا چکے ہیں جو ریکارڈ 9,734 بیرل تیل اور 74.25 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس فراہم کررہے ہیں۔













