کیا پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر حکومت بجٹ منظور کرا سکتی ہے؟

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے، تاہم بجٹ کی منظوری کے حوالے سے حکمران اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا، جس کے باعث یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بجٹ منظور کرا سکتی ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہونے پر وفاقی بجٹ میں تاخیر، اتحادی جماعت حکومت سے کیا چاہتی ہے؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس پہلے 5 جون کو طلب کیا جانا تھا، تاہم بجٹ معاملات پر جاری سیاسی مشاورت کے باعث صورتحال تبدیل ہوئی۔

پیپلز پارٹی نے حکومت کی بعض بجٹ تجاویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان تجاویز کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کو قائل کرنے اور بجٹ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دو مرتبہ مذاکرات بھی کیے گئے، تاہم یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اب پیپلز پارٹی کو منائے بغیر ہی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، اور 10 جون کو بجٹ پیش کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی کے 336 رکنی ایوان میں بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو کم از کم 169 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اس وقت حکمران اتحاد کے ارکان کی مجموعی تعداد 237 ہے، تاہم اگر پیپلز پارٹی کے 74 ارکان بجٹ کی حمایت نہ کریں تو حکومتی اتحاد کی مؤثر تعداد 163 رہ جائے گی۔ ایسی صورت میں حکومت کو بجٹ منظور کرانے کے لیے اپوزیشن یا دیگر جماعتوں کے کم از کم 6 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، جو جمعیت علمائے اسلام (ف) یا دیگر آزاد ارکان کی صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے اور اس کے 26 ارکان موجود ہیں، تاہم آئینی طور پر وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی نہیں ہوتی۔ اس لیے پارلیمانی ماہرین کے مطابق بجٹ کی منظوری کے عمل میں سینیٹ حکومت کے لیے فوری رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

’پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بھی بجٹ منظور ہو سکتا ہے‘

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اور پارلیمانی اعتبار سے حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بھی بجٹ منظور کرا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی آئینی ترمیم درپیش ہو تو حکومت کو سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جہاں وہ پیپلز پارٹی کی حمایت کی محتاج ہے، لیکن بجٹ کی منظوری کے لیے ایسی کوئی مجبوری موجود نہیں۔ حکومت قومی اسمبلی میں مطلوبہ حمایت حاصل کرکے بجٹ باآسانی منظور کرا سکتی ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق اصل مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہوگا۔ اگر پیپلز پارٹی بجٹ پر حکومت کا ساتھ نہیں دیتی تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہوگا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ دونوں جماعتیں بجٹ جیسے اہم معاملے پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک پیپلز پارٹی مختلف اختلافات کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی حمایت کرتی رہی ہے، آئینی ترامیم اور دیگر اہم معاملات میں بھی تعاون کیا گیا، لیکن اگر بجٹ پر راستے جدا ہو جاتے ہیں تو دونوں جماعتوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق ایسی صورتحال میں حکومت کو صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو وفاقی حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اور دیگر صوبائی معاملات میں بھی اس کا اہم کردار ہے، لہٰذا وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت صوبوں کی جانب سے سرپلس بجٹ دکھانے جیسے معاملات صوبائی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ اگر پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ تعاون نہ کرے تو ان اہداف کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ایوارڈ)، قانون سازی اور سینیٹ سے بلوں کی منظوری جیسے معاملات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

حکومت سازی کے وقت طے پانے والا سیاسی فارمولا بھی خطرے میں

احمد بلال محبوب نے یاد دلایا کہ حکومت سازی کے وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک سیاسی مفاہمت طے پائی تھی۔ اس کے تحت پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شامل ہونے کے بجائے باہر سے حمایت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ اس کے بدلے میں بعض اہم آئینی اور انتظامی عہدے حاصل کیے تھے۔

’ان عہدوں میں صدرِ مملکت کا منصب، دو صوبوں میں گورنر شپ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہی اور بعض خودمختار اداروں کی قیادت شامل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ پر دونوں جماعتوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں تو یہ پورا سیاسی بندوبست بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مسلم لیگ (ن) یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ جب پیپلز پارٹی حکومت کی حمایت نہیں کررہی تو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنرز یا دیگر عہدے اس کے پاس کیوں رہیں۔

مزید پڑھیں: ن لیگ اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کی اہم بیٹھک، وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق

احمد بلال محبوب کے مطابق اس کشیدگی کے اثرات سندھ کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں اتحادی جماعتوں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

’پیپلزپارٹی کے بغیر بجٹ منظور کرانا ممکن مگر اس کے سیاسی اثرات ہوں گے‘

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بجٹ منظور کرانا آئینی طور پر ممکن ہے، تاہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اثرات حکومتی استحکام، اتحادی سیاست اور وفاقی و صوبائی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp