پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہونے پر وفاقی بجٹ میں تاخیر، اتحادی جماعت حکومت سے کیا چاہتی ہے؟

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت اور اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ پر مشاورت کا عمل جاری ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے متعدد تحفظات تاحال برقرار ہیں، جس کے باعث بجٹ پیش کرنے میں تاخیر کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت 5 جون کے بجائے اب 10 یا 12 جون کو بجٹ پیش کرنے پر غور کررہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نوید قمر، شیری رحمان اور حکومتی اقتصادی ٹیم کے ارکان نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟

اجلاس میں آئندہ وفاقی بجٹ، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز، صوبے کے ترقیاتی حصے اور بعض اہم منصوبوں کو نظر انداز کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد تک اضافے، پینشن میں خاطر خواہ اضافے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں نمایاں اضافے کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔

پارٹی کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث سرکاری ملازمین، پینشنرز اور کم آمدنی والے طبقات شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے بجٹ میں انہیں حقیقی ریلیف دیا جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو کی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی حالیہ دنوں میں حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی ترقی کا ماڈل عوام دوست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی ترقی کو ہم ترقی نہیں مانتے جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا جائے۔ حقیقی معاشی ترقی وہ ہوتی ہے جس میں کسان خوشحال ہو، مزدور کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری نے بعض سیاسی و معاشی حلقوں کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مشکل معاشی حالات میں غریب اور بے سہارا خواتین کی معاونت کرنے والے پروگراموں کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی آئندہ بجٹ میں بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافے کا مطالبہ کررہی ہے۔

موجودہ معاشی پالیسییوں کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے، شہباز رانا

معاشی امور کے ماہر اور سینیئر صحافی شہباز رانا نے بجٹ میں تاخیر کو بلاول بھٹو زرداری کی مصروفیات یا مشاورت سے مشروط قرار دینے کے تاثر پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 23-2022 سے اب تک پیش ہونے والے تمام وفاقی بجٹ پیپلز پارٹی کی حمایت سے منظور ہوئے ہیں، اس لیے موجودہ معاشی پالیسیوں اور بجٹ فیصلوں کی سیاسی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں بلکہ اتحادی جماعت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

شہباز رانا کے مطابق پیپلز پارٹی کی خواہش پر آئندہ بجٹ میں قریباً 87 ارب روپے کے اضافی ترقیاتی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ وزارت خزانہ کے اختیارات محدود دکھائی دیتے ہیں اور کئی اہم معاشی فیصلوں میں وزیراعظم ہاؤس اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کردار نمایاں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو مکمل خودمختاری حاصل نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت گلگت بلتستان کے انتخابی معرکے میں مصروف ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ وہ بجٹ اجلاس کے موقع پر قومی اسمبلی میں موجود ہوں۔ اسی وجہ سے بجٹ کی نئی تاریخ پر غور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کو آگاہ کیا ہے کہ مکمل مشاورت اور اتحادی جماعت کے تحفظات پر مزید پیش رفت کے بعد ہی بجٹ پیش کیا جائے گا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 8 جون کو بلائے جانے کا امکان

ادھر وزیراعظم کی ہدایت پر قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس اب 8 جون کو بلائے جانے کا امکان ہے جبکہ بجٹ میں ممکنہ ریلیف اقدامات کے لیے آئی ایم ایف سے مزید مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا باضابطہ نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ اسمبلی سیکریٹریٹ حکام کے مطابق انہیں ابھی تک اجلاس طلبی کا حتمی سمن موصول نہیں ہوا، جبکہ بجٹ پیش کیے جانے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ترقیاتی فنڈز، سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکج، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور صوبوں کے حصے سے متعلق معاملات پر مزید مذاکرات ہونے کا امکان ہے، جن کے نتائج بجٹ کی حتمی شکل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے