عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی اداکار فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات کی فلم ’زومبیڈ‘ کی کامیابی کے دعوؤں پر صحافی نعیم حنیف نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
فلم کی ریلیز کے بعد فہد مصطفیٰ نے مختلف مواقع پر دعویٰ کیا تھا کہ ’زومبیڈ‘ کو شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور فلم باکس آفس پر بھی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ تاہم نعیم حنیف نے ایک پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان دعوؤں سے اختلاف کیا۔
انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی فلموں کو توقعات کے مطابق پذیرائی نہیں ملی اور ان کے بقول ’زومبیڈ‘ بھی مطلوبہ کاروبار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ نعیم حنیف نے دعویٰ کیا کہ عید کے تیسرے اور چوتھے روز فلم کے لیے دو ٹکٹ بھی فروخت نہیں ہو رہے تھے اور سنیما مالکان نے فلم چلاانے سے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے فہد مصطفیٰ اور فلم سازوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمزور مواد کے باوجود فلم کی کامیابی کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نعیم حنیف کا کہنا تھا کہ اگر رات 10 بجے تک عوام فلم دیکھنے نہیں آ رہے تو سینما کے اوقات میں مزید دو گھنٹے اضافے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا سنیما انڈسٹری کیلئے ریلیف، اوقات کار میں نرمی پر فہد مصطفیٰ کا ردعمل سامنے آگیا
انہوں نے مزید کہا کہ فہد مصطفیٰ اور دیگر فلم ساز اس وقت تک معیاری فلم نہیں بنا سکتے جب تک وہ فلم انڈسٹری کے تجربہ کار اور پرانے تکنیکی ماہرین کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ نعیم حنیف نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ فہد مصطفیٰ اور دیگر افراد نے پنجاب حکومت کے فلمی گرانٹ پروگرام سے بغیر کسی میرٹ کے فائدہ حاصل کیا۔
فہد مصطفیٰ یا فلم کی انتظامیہ کی جانب سے نعیم حنیف کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔














