وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان، کیا محمود اچکزئی مائنس ہوگئے؟

ہفتہ 6 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی بجٹ پیش ہونے کے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پارٹی کے پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ دھرنے کا اعلان کیا ہے، جو پارٹی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی فیصلہ سازی کے اختیارات نہ ہونے کے باوجود انہوں نے خود کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق جیل میں قید بانی عمران خان نے سیاسی فیصلوں، جلسوں، جلوسوں، لانگ مارچ اور اپنی رہائی کی تحریک کے حوالے سے اختیارات قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس کو دیے ہیں۔ خود سہیل آفریدی بھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے سہیل آفریدی پھر سرگرم، برف پگھلے گی؟

جب سہیل آفریدی سے پوچھا جاتا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے کیا اقدامات ہو رہے ہیں تو ان کا کہنا ہوتا تھا کہ تحریک کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے، اگر ان کی جانب سے کال دی گئی تو وہ اس میں شریک ہوں گے۔

کیا سہیل آفریدی اب سیاسی فیصلوں میں با اختیار ہوگئے ہیں؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گزشتہ ہفتے عمران خان کی بہنوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے اڈیالہ جیل کے سامنے گئے، جہاں انہوں نے صوبائی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں عمران خان سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے حوالے سے عمران خان سے مشاورت ضروری ہے۔

انہوں نے یہ اعلان بھی کیاکہ اگر ان کی عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو وفاقی بجٹ کے دن قومی اسمبلی کے سامنے پارلیمنٹیرینز دھرنا دیں گے۔

سہیل آفریدی نے یہ اعلان خود کیا اور باخبر ذرائع کے مطابق انہوں نے عمران خان کی بہنوں کی موجودگی میں بغیر کسی مشاورت کے یہ اعلان کیا۔

اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان سہیل آفریدی کی جانب سے کیا جانے والا پہلا سیاسی فیصلہ نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ پارٹی قیادت اور محمود خان اچکزئی کو بائی پاس کرتے ہوئے سیاسی فیصلے کر چکے ہیں، جن سے محمود خان اچکزئی لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ سہیل آفریدی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں، تاہم حکومتی اختیارات اور وسائل کی وجہ سے ان کی بات مانی جاتی ہے اور وہ اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی ابھی تک عمران خان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی، تاہم وہ عمران خان کی بہنوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

ایک ذریعے نے کہا، ’اگر دیکھا جائے تو سیاسی معاملات میں سہیل آفریدی کا خاصا اثر و رسوخ ہے، کیونکہ وسائل اور اختیارات ان کے پاس ہیں۔‘

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی مشاورت کے بغیر کیے جانے والے فیصلوں سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی جلسے سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی ناراضی کے بعد بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی سے ملاقات کرکے انہیں مشورہ دیا تھا کہ سیاسی فیصلوں میں محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لیا جائے۔

صرف سہیل آفریدی ہی نہیں بلکہ ان کی کابینہ کے بعض قریبی ساتھی بھی ازخود بیانات دیتے رہتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق شفیع جان اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، تاہم باخبر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی میں ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں آئی۔

سہیل آفریدی خود سیاسی فیصلے کیوں کرتے ہیں؟

پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق اگرچہ سہیل آفریدی کے پاس پارٹی میں سیاسی فیصلوں کا اختیار نہیں، تاہم ان پر دباؤ بہت زیادہ ہے۔

ایک پارٹی رہنما نے بتایا کہ عمران خان نے اپنی رہائی کی تحریک اور دیگر سیاسی فیصلوں کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے، لیکن کارکن سوالات سہیل آفریدی سے کرتے ہیں۔

سہیل آفریدی کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ صوبے کے انتظامی اور مالی امور کے ساتھ ساتھ عمران خان کی رہائی کے معاملے پر بھی کارکن ان سے جواب طلب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ فیصلوں کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔ سہیل آفریدی مجبور ہیں۔ جبکہ محمود اچکزئی خاموش ہیں اور اب تک ایک جلسے کی بھی کال نہیں دی گئی، اس لیے سہیل آفریدی کو خود اعلانات کرنا پڑ رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جلسے ہوں یا نہ ہوں، محمود خان اچکزئی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ ان سے کوئی سوال نہیں کرتا، جبکہ ناکامی کا سارا ملبہ سہیل آفریدی پر گرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے سیاسی فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔

پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

سہیل آفریدی کی جانب سے سیاسی اور تنظیمی معاملات میں مداخلت کو اندرونی اختلافات کی ایک بڑی وجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد بعض اراکین اسمبلی بھی ان کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں اور بجٹ اجلاس میں مخالفت کا عندیہ دے چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چند روز قبل ایک واٹس ایپ گروپ میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی آمنے سامنے آ گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے اور قریباً 35 اراکین اجلاس سے غیر حاضر رہے تھے۔

’پی ٹی آئی میں کسی ایک شخص کے پاس فیصلہ سازی کا مکمل اختیار نہیں‘

پشاور کے سینیئر صحافی عارف حیات کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی میں کسی ایک شخص کے پاس فیصلہ سازی کا مکمل اختیار نہیں۔

انہوں نے کہاکہ احمد نیازی اپنی مرضی سے تحریک شروع کرتے ہیں، وزیراعلیٰ اپنی مرضی سے اعلانات کرتے ہیں، جبکہ محمود اچکزئی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اب خود سوچیں کہ ذمہ دار کون ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ کارکن کھل کر قیادت پر تنقید کررہے ہیں، احتجاجوں اور جلسوں میں لوگ نہیں نکل رہے، اور ان سب کی ذمہ داری بھی بالآخر سہیل آفریدی پر آ جاتی ہے۔

عارف حیات نے کہاکہ سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس یا موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور رمضان کے بعد باقاعدہ رجسٹریشن مہم کا افتتاح بھی کیا گیا، مگر اب عیدالاضحیٰ بھی گزرنے والی ہے اور اس تحریک کی سرگرمیاں قریباً ختم ہو چکی ہیں۔

’سہیل آفریدی کارکنوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے دھرنوں کا اعلان کرتے ہیں‘

نوجوان صحافی اور تجزیہ کار شہاب الرحمان کا بھی یہی خیال ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کارکنوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جلسوں اور دھرنوں کے اعلانات کرتے ہیں، لیکن اکثر ان پر خود بھی عمل نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات: سہیل آفریدی کا لاہور دورہ کیوں منسوخ ہوا؟

شہاب الرحمان کے مطابق سہیل آفریدی محمود اچکزئی سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ محمود اچکزئی حکومت مخالف سیاسی جدوجہد اور سڑکوں پر احتجاج سے گریز کررہے ہیں، جس کی وجہ سے تنقید کا رخ سہیل آفریدی کی جانب ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وہی کریں گے جو عمران خان کی بہنیں چاہیں گی، تاکہ ان کے لیے کوئی سیاسی مشکلات پیدا نہ ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ، کورین سیاح کے سماجی تجربے نے ہلچل مچا دی، ویڈیو وائرل

عوامی مقامات پر مختصر لباس: فلک شبیر کے بیان نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی

عیدالاضحیٰ پر ڈیجیٹل ادائیگیوں میں ریکارڈ اضافہ، اسٹیٹ بینک کی ’گو کیش لیس‘ مہم کامیاب

گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان 30 ارب ڈالر کا تاریخی اے آئی معاہدہ

امریکا۔ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

ویڈیو

امریکا۔ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

گلگت بلتستان انتخابات: معذور ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے میں مشکلات

گلگت بلتستان الیکشن: سیاسی گہما گہمی عروج پر، عوام جمہوری عمل کے لیے پرجوش

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟