کراچی میں منشیات کی اسمگلنگ کے ہائی پروفائل کیس میں گرفتار اہم ملزمہ انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش اپنے مبینہ وائس نوٹ کی تصدیق کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد پولیس نے سائنسی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزمہ چونکہ وائس نوٹ کو اپنا ماننے سے انکاری ہے، لہٰذا اس کی آواز کا اصل وائس نوٹ سے موازنہ کرنے کے لیے جیل میں ملزمہ کی آواز کے نمونے ریکارڈ کرنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شمعون عباسی نے منشیات فروش انمول پنکی پر ڈراما بنانے کی مخالفت کردی، وجہ کیا بتائی؟
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ منشیات کے مقدمات کی تحقیقات میں یہ وائس نوٹس انتہائی اہم سائنسی شواہد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کا فارنزک آڈٹ کروانا ناگزیر ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ کیا یہ آواز واقعی انمول عرف پنکی کی ہی ہے یا اسے فریم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فارنزک رپورٹ سے وائس نوٹ کے اصل ہونے یا نہ ہونے کی حتمی تصدیق ہو سکے گی۔
واضح رہے کہ کراچی پولیس نے چند روز قبل ایک کامیاب کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی نامی ملزمہ کو منشیات کی فروخت اور اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے کہ ملزمہ کا رابطہ نیٹ ورک انتہائی وسیع ہے جس میں کئی بیوروکریٹس، اہم سفارتی شخصیات اور دیگر بااثر افراد کے نام بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ کیس انتہائی حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں
پولیس کو دورانِ تفتیش ملزمہ کے موبائل فون سے متعدد ایسے وائس نوٹس ملے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان میں منشیات کی ڈیلنگ اور نیٹ ورک سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔
حال ہی میں جیل میں ملزمہ کا طبی معائنہ بھی کروایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔
اب پولیس نے ان وائس نوٹس کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کے لیے فارنزک لیبارٹری سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بااثر افراد پر مشتمل اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔













