جمہوریت میں مداخلت کا الزام: ہنری نوواک کیس پر جے ڈی وینس کے بیان پر برطانوی نائب وزیرِ اعظم برہم

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی نائب وزیرِ اعظم ڈیوڈ لیمی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو خود فون کر کے واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ وہ برطانوی نوجوان ہنری نوواک کے قتل کا ذمہ دار یورپ میں ‘مہاجرین کے یلغار’ کو قرار دے کر صریحاً غلطی پر ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق، ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر کو دوٹوک انداز میں سمجھایا کہ اس المناک واقعے کا بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت (ماس مائیگریشن) سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی پر برطانیہ برہم

انہوں نے امریکی انتظامیہ کو ہنری نوواک کے سوگوار خاندان کا وہ پیغام بھی یاد دلایا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنے پیارے کی موت کو معاشرے میں کسی بھی قسم کی تقسیم یا نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

یہ شدید سفارتی تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ وکرم ڈگوا کے ہاتھوں چاقو کے وار سے قتل ہونے والا 18 سالہ نوجوان ہنری نوواک آج بھی زندہ ہوتا اگر یورپی باشندے ‘خود سے نفرت کی سیاست’ کے خلاف ڈٹ جاتے۔

اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ ہنری نوواک کو قتل کرنے والا شخص خود ایک برطانوی شہری تھا، اس لیے انہوں نے ہفتے کے روز امریکی نائب صدر سے فون پر بات چیت کے دوران متعدد اہم امور پر زور دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ ‘مسٹر وائس پریزیڈنٹ، آپ اس معاملے میں بالکل غلطی پر ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے امریکا میں سفیر پیٹر مینڈلسن برطرف، وجہ کیا بنی؟

دوسری جانب، ڈاؤننگ اسٹریٹ (برطانوی وزیراعظم کے دفتر) نے بھی جے ڈی وینس پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر ‘برطانوی جمہوریت میں مداخلت کی کوشش’ کا سنگین الزام عائد کیا ہے اور عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ نوواک خاندان کی خواہشات کا احترام کریں۔

واضح رہے کہ ہنری نوواک کے قتل کی رات کی باڈی کیم فوٹیج سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ قاتل وکرم ڈگوا کی جانب سے نسل پرستانہ حملے کے جھوٹے دعوے کے بعد، پولیس نے زمین پر گرے زخمی ہنری کو ہتھکڑیاں لگا دی تھیں، جبکہ وہ بار بار التجا کرتا رہا کہ اسے سانس لینے میں شدید دشواری ہو رہی ہے، جس کے کچھ ہی دیر بعد وہ دم توڑ گیا۔

اس واقعے کے بعد برطانوی شہر ساؤتھمپٹن میں پولیس مخالف مظاہروں نے شدید ہنگاموں کی شکل اختیار کرلی تھی، جن میں ٹامی رابنسن اور لارنس فاکس جیسی انتہائی دائیں بازو کی شخصیات نے بھی شرکت کی، اور ان پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی جبکہ کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp